Al-Risala · July 2014 · page 31

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۳۱

غیرہ : حوله و بدله كأنه جعله غير ما كان (40/5) اس کی تغیر کی، یعنی اس کو بدل دیا۔ گویا کہ اس کو ایسا بنا دیا جیسا کہ وہ پہلے نہ تھا۔ امام راغب الاصفهانی (وفات: 1108) نے اپنی کتاب ”المفردات فی غریب القرآن‘ میں اس لفظ کی تشریح اس طرح کی ہے: يقال غيرتُ دارى إذا بنيتها بناءَ غير الذي كان ۔ کہا جاتا ہے کہ میں نے اپنے گھر کی تغیر کی، یعنی جب تم اس کی تعمیر کو بدل کر دوسری طرح اس کی تعمیر کرو (صفحہ 368)۔

موجودہ زمانے میں جگہ جگہ جہاد کے نام پر تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔ یہ ”مقدس تشدد“ مسلم رہنماؤں کی قیادت میں انجام پا رہا ہے۔ اس فعل میں تقریباً تمام امت شریک ہے۔ اس لیے کہ جو لوگ براہ راست اس میں شریک نہیں ہیں، وہ اس کے بارے میں خاموش ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے، اُن کی یہ خاموشی بالواسطہ شرکت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے اسلامی اصول کے مطابق، پوری امت کو اس عمل میں شریک مانا جائے گا، کچھ لوگوں کو براہ راست طور پر، اور بقیہ لوگوں کو بالواسطہ طور پر۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس متشددانہ عمل کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا ہے۔ اس عمل کا ہر جگہ صرف ایک ہی نتیجہ نکل رہا ہے، اور وہ تخریب ہے، نہ کہ تعمیر۔ ایسی حالت میں بلا شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ متشددانہ کارروائیاں اور جو کچھ ہوں، لیکن وہ تغییر منکر کا عمل ہر گز نہیں۔ تغییر منکر یہ ہے کہ آدمی ناپسندیدہ صورت حال کو بدل کر اس کی جگہ پسندیدہ صورت حال قائم کرے۔ اس کے برعکس، ایک ایسی کوشش جو کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہو، وہ یقینی طور پر تخریب اور فساد ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی عمل۔

کسی غیر مطلوب صورت حال کو دیکھ کر اس کے خلاف منفی ردِ عمل ظاہر کرنا، صرف فساد کا ایک عمل ہے، وہ تغییر منکر نہیں۔ تغییر منکر مکمل طور پر ایک مثبت عمل ہے۔ وہ حالات کی اصلاح کے لیے کیا جاتا ہے، نہ کہ حالات کو مزید بگاڑنے کے لیے۔ اصلاحِ حال کا طریقہ یہ ہے کہ غیر متاثر ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کیا جائے اور پھر تعمیری منصوبہ بندی کے ذریعے صورت حال کو درست کرنے کی کوشش کی جائے۔ جو لوگ اس کے خلاف کریں، وہ بلا شبہ مفسد ہیں، نہ کہ مصلح۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues

Printed page