Al-Risala · July 2014 · page 34

صحیح نقطۂ آغاز

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۳۴

صحیح نقطۂ آغاز

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے پہلے مکہ میں تھے تو وہاں کے سرداروں نے آپ کو حکومت کی پیش کش کی۔ انھوں نے کہا: إِنَّ تُريد مُلْكاً مُّلْكَنَا ك عَلَينا (اگر تم حکومت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنے اوپر حاکم بنانے کے لیے تیار ہیں)۔ آپ نے فرمایا: ما أطلب الملك عليكم (میں تمھارے اوپر حکومت نہیں چاہتا)۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب سے اسلامی تحریک کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اسلامی تحریک کا نقطہ آغاز (starting point) حکومت یا سیاسی اقتدار نہیں ہے، بلکہ اسلامی تحریک کا اصل نقطہ آغاز فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا ہے، ایک ایک فرد کے ذہن کی تشکیل نو (re-engineering of mind) کرنا ہے۔

اسلامی تحریک کا فارمولا دو نکات (points) پرمشتمل ہے فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا، اور پولیٹکل سسٹم کے معاملے میں حالت موجودہ کو تسلیم کرلینا:

Change in personality, statusquoism in system

اسلامی تحریک کی یہی فطری ترتیب ہے۔ اگر اِس ترتیب کو بدل دیا جائے، یعنی اگر پولٹیکل سسٹم کو بدلنے سے تحریک کا آغاز کیا جائے تو سو سال کی جدوجہد کے بعد بھی کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ فرد کی تبدیلی سے آغاز کر کے نظام کی تبدیلی تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اگر نظام کی تبدیلی سے آغاز کیا جائے تو ایسی تحریک کسی انجام تک پہنچنے والی نہیں۔ ایسی تحریک صرف تباہی میں اضافہ کرے گی، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

فرد کے اندر ذہنی تبدیلی سے تحریک کا آغاز کرنے کی صورت میں فی الفور تحریک کو مثبت آغاز مل جاتا ہے۔ لیکن سسٹم سے آغاز کرنے کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آخر کار تحریک ایک بند گلی میں پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اس کے پیچھے بھی اندھیرا ہوتا ہے اور اس کے آگے بھی اندھیرا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues

Printed page