کائنات کی معنویت
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۳۷
کائنات کی معنویت
سائنس فطرت (nature) کے مطالعے کا نام ہے۔ فطرت میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کو ہم کائنات کہتے ہیں۔ سائنسی مطالعے کا آغاز کچھ ابتدائی باتوں سے ہوا، لیکن یہ مطالعہ جتنا زیادہ بڑھتا گیا، اتنا ہی یہ ظاہر ہوتا گیا کہ کائنات ایک بے حد بامعنی کائنات ہے۔ کائنات کی کوئی بھی ایسی تشریح جو کائنات کی معنویت کے اعتراف پر قائم نہ ہو، وہ سائنسی تحقیقات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ مثلاً سائنسی مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات کے اندر ایک ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ اب اگر یہ نہ مانا جائے کہ کائنات کا ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) ہے تو کائنات کا نادر ظاہر نہ ناقابل توجیہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح سائنس کے مطالعے نے بتایا کہ ہماری کائنات ایک کسٹم میڈ (custom-made) کائنات ہے، یعنی وہ انسان جیسی مخلوق کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اب اگر ایک ایسے خالق کو نہ مانا جائے جس نے دو الگ الگ چیزوں کے درمیان اس مطابقت کو قائم کیا، تو اس ظاہرے کی کوئی قابل فہم توجیہہ ممکن نہیں۔ اسی طرح مختلف شعبوں میں سائنس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزا آپس میں بے حد مربوط ہیں اور ان کے درمیان ایک انتہائی فائن ٹیوننگ (fine-tuning) پائی جاتی ہے تو اس مائنڈ با گلنگ (mind-boggling) ظاہر رے کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں۔ سائنس کوئی مذہبی سبجیکٹ نہیں، سائنس کا موضوع خالق کی دریافت نہیں۔ سائنس کا موضوع تخلیق (creation) کی دریافت ہے، لیکن خالق (Creator) تخلیق سے جدا نہ تھا، اس لیے تخلیق کا مطالعہ عملاً خالق کا مطالعہ بن گیا۔ سائنس نے اپنے مطالعے کے ذریعے جو چیزیں دریافت کیں، وہ سب خدائی نشانیوں کا اظہار بن گئیں جن کو قرآن میں 'آیات اللہ' (signs of God) کہا گیا ہے۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ تخلیق کی معنویت کی دریافت خالق کی معنویت کی دریافت کے ہم معنی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues