ضرورت اور مقصد
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۳۹
ضرورت اور مقصد
دنیا بقدر ضرورت ، دین بقدر ہمت — ایک عالم کا یہ قول کسی انسان کے لیے سب سے اچھا فارمولا ہے۔ ہر آدمی کی ایک ضرورت ہے، اور دوسرا اس کا مقصد ہے۔ ہر فرد اور گروہ کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی پلاننگ اس طرح کرے کہ دنیا کے معاملے میں وہ اپنے آپ کو بقدر ضرورت پر قانع بنائے، اور اپنے مقصد کے معاملے میں وہ اپنی زیادہ سے زیادہ توانائی صرف کرے ۔ یہی معاملہ سیاست کا بھی ہے۔ ایک سچے انسان کے لیے سیاست یا سیاسی اقتدار کبھی زندگی کی منزل نہیں بن سکتا۔ اس معاملے میں صرف ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ سیاسی اعتبار سے جو کچھ اُس کو عملاً ملا ہوا ہے، وہ اس پر راضی ہو جائے، اور غیر سیاسی دائرے میں وہ اپنے پورے حوصلے کے ساتھ اپنا حصہ ادا کرے۔ دنیا کی دوسری چیزوں کی طرح سیاست کے معاملے میں بھی یہ ہوتا ہے کہ کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ تاریخ میں جو لڑائیاں ہوئی ہیں، وہ اس لیے ہوئیں کہ جن لوگوں کو سیاست میں کم حصہ ملا تھا، وہ اُن سے لڑ گئے جن کو بظاہر سیاست میں زیادہ حصہ ملا تھا۔ یہی تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دوسری مادی چیزوں میں قناعت مطلوب ہے، اُسی طرح سیاست کے معاملے میں بھی قناعت مطلوب ہے۔ سیاسی قناعت سے امن قائم ہوتا ہے، اور سیاسی عدم قناعت سے جنگ اور ٹکراؤ۔ مزید یہ کہ سیاسی عدم قناعت کا نقصان مادی عدم قناعت سے بھی زیادہ ہے۔ مادی عدم قناعت کسی آدمی کو صرف اپنی ذات کے اعتبار سے غیر مطمئن بناتی ہے، مگر سیاسی عدم قناعت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا سماج مہلک بے اطمینانی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مادی عدم قناعت اگر صرف ذاتی نادانی ہے تو سیاسی عدم قناعت ایک قومی نادانی۔
قناعت کا اصول ایک بے حد حکیمانہ اصول ہے۔ اس کی ضرورت جس طرح ذاتی معاملات میں ہے، اُسی طرح بلکہ مزید شدت کے ساتھ اس کی اہمیت اجتماعی اور سیاسی معاملات میں بھی ہے۔ قناعت ایک حکمت کی بات ہے، معروف معنوں میں وہ کوئی درویشی کی بات نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues