Al-Risala · September 2014 · page 3

معرفت اور عبادت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳

معرفت اور عبادت

روایات میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما عرفناك حق معرفتك (روح المعاني، سورۃ الأنعام: 91) یعنی اے اللہ، ہم اُس طرح تیری معرفت حاصل نہ کر سکے جو کہ تیری معرفت کا حق ہے۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ما عبدناك حق عبادتك (المعجم الكبير للطبراني، رقم الحديث: 1730) یعنی اے اللہ، ہم تیری عبادت اُس طرح نہ کر سکے جس طرح تیری عبادت کرنے کا حق ہے۔

معرفت اور عبادت کی اصل حقیقت عجز ہے۔ کوئی انسان جب معرفت کا اعلیٰ ادراک کرتا ہے، یا کوئی انسان جب عبادت کے آخری درجے تک پہنچتا ہے تو وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ انسان عاجز مطلق (all-powerless) ہے اور خدا قادرِ مطلق (all-powerful)۔ یہی دریافت معرفت اور عبادت کا نقطہ انتہا (culmination) ہے۔

معرفت اور عبادت کا ایک پہلو وہ ہے جو انسان کی نسبت سے ہے اور دوسرا پہلو وہ ہے جو اللہ کی نسبت سے ہے۔ انسان کی نسبت سے عارف یا عابد کا احساس ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ معرفت اور عبادت کا حق ادا نہ کر سکا، اور اللہ کی نسبت سے اُس کا احساس ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ اِس سے بلند ہے کہ کوئی انسان کامل طور پر اس کی معرفت اور عبادت کا حق ادا کر سکے۔

یہ احساسِ عجز ہر سچے مومن کے اندر لازمی طور پر موجود ہوتا ہے۔ اس میں کسی فرد کا کوئی استثنا نہیں، حتیٰ کہ اس معاملے میں کسی پیغمبر کا بھی کوئی استثنا (exception) نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جو خالق کو مخلوق سے الگ کرتا ہے۔ اس معاملے میں، کسی بھی قسم کی شرکت دین خداوندی میں ناقابلِ قبول ہے۔ اسلام میں سب سے بڑی حقیقت توحید کی معرفت ہے۔ توحید کی اعلیٰ معرفت اپنے آپ شرک کی نفی کر دیتی ہے۔ توحید کی اعلیٰ معرفت کے بغیر اعلیٰ مومنانہ شخصیت کی تعمیر ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page