Al-Risala · September 2014 · page 25

منصوبہ خداوندی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۵

اہل بیت سے۔ چنانچہ قرآن میں اس سلسلے میں مختلف آیتیں آئی ہیں، اس سلسلے میں ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (61:8)۔

حضرت عباس بن عبد المطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ ان کی وفات 32 ہجری (653ء) میں ہوئی ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد اعداء اسلام کی طرف سے مسلسل مخالفانہ وا قعات پیش آتے رہے جن کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ لیکن ان مخالفانہ سرگرمیوں کے با وجود اسلام اپنی اصل حالت پر قائم ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اسلام کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔

اہل بیت کا احترام اپنی جگہ مسلّم ہے، لیکن تاریخ میں اللہ کی منصوبہ بندی ہرگز کسی شخص یا خاندان کی بنیاد پر نہیں ہوتی، بلکہ وہ بر تر انسانی مصالح کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ خاتم النبیین کے ظہور کے بعد اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ خدا کا دین ابدی طور پر قائم ہو جائے ۔ قرآن وسنت کا متن محفوظ ہو جائے ۔ دین کا ایک مستند ماڈل وجود میں آ جائے ۔ قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کے لیے یہ ممکن ہو جائے کہ جو شخص ہدایت الہی کو جاننا چاہے، وہ بلا اشتباہ اُس کو جان سکے۔ یہ تاریخ کے بارے میں اللہ کا منصوبہ تھا۔ اس منصوبے کو اس طرح مکمل ہونا تھا کہ انسان کی آزادی برقرار رہے اور دین کی حفاظت کا مقصد بھی پوری طرح حاصل ہو جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ اعدا (مخالفین) کی سرگرمیوں کو آزادانہ طور پر باقی رکھتے ہوئے دین کے بارے میں اللہ کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچانا ۔ یہ واقعہ منصوبہ خداوندی کے مطابق، پوری طرح انجام پایا۔ یہ خدا کے منصوبے کا کم تر اندازہ ہوگا کہ اس کی تکمیل کے لیے کسی فرد یا خاندان کی موجودگی کو ضروری سمجھا جائے ۔ فرد یا خاندان کے لیے اللہ کا قانون الگ ہے اور اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے اللہ کا قانون الگ ۔ دونوں کو ایک دوسرے سے ملاکر نہیں دیکھا جا سکتا۔ (26 مارچ 2014)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2014 All issues

Printed page