Al-Risala · October 2014 · page 7

ابراهیاهیه ، ترمات : ۵۲۶) ہاں رب کائنات نے (اس

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۷

نشانی عقل والوں کے لیے

ابراهیاهیه ، ترمات : ۵۲۶) ہاں رب کائنات نے (اس

ہر چیز میں اس کے لیے ایک نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ وہ ایک ہے :

وفي كلّ شيء له آية تدلّ على أنه الواحد

شے میں ہر ایک کے لیے حاشیہ لیکن جو ہے میں نشانی (signs) ک یہ شعر بجائے خود ایک اچھا شعر ہے، لیکن چیزوں میں نشانیوں (signs) کا موجود ہونا اپنے آپ میں نصیحت کے لیے کافی نہیں۔ نصیحت کے لیے ضروری ہے کہ چیزوں کو دیکھنے والا صاحبِ عقل ہو۔ اسی لیے قرآن میں زمین اور آسمان کی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ کہا گیا ہے کہ: لآيات لقوم يعقلون (2:164) یعنی ان نشانیوں سے نصیحت صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو عقل والے ہوں۔ عقل سے مراد سوچنے کی صلاحیت ہے، یعنی چیزوں کو سادہ طور پر نہ لینا، بلکہ اُن پر غور کرنا۔ قرآن میں آیا ہے کہ: وَكَأَيِّنْ مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ (12:105) یعنی آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر اُن کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ اُن سے اعراض کرتے ہیں۔

اعراض کا مطلب ہے روگردانی کرنا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ بار بار نشانیوں (signs) کو دیکھتے ہیں، مگر وہ اس پر دھیان نہیں دیتے، وہ اُس پر زیادہ غور نہیں کرتے، وہ اُس سے سبق لینے کی کوشش نہیں کرتے۔ نشانیاں بلاشبہ اپنی ذات میں نشانیاں ہیں، لیکن وہ زندگی کے لیے سبق آموز صرف اُس وقت بنتی ہیں جب کہ آدمی ٹھہر کر ان کے بارے میں سوچے، وہ چیزوں کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرے۔

نشانیوں سے مراد کوئی محدود چیز نہیں۔ ہر مشاہدہ اور ہر تجربہ ایک نشانی ہے۔ ہر واقعے میں نشانی کا ایک پہلو ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ نشانیوں کو دریافت کرے اور اُن کے ذریعے اپنے فکری ماں کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ بچے کی روح رزق (intellectual food) کا سامان کرے ۔

کیپچری

‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues

Printed page