تخلیق آدم
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۳
تخلیق آدم
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لماصور الله آدم في الجنة تركه ماشاء الله أن يترکه فجعل ابليس يطيف به ينظر ماهو فلما رآه أجوف عرف أنه خلق خلقا لا یتمالک (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 6815) یعنی جب اللہ نے جنت میں انسان کی ساخت بنائی تو اللہ نے اس کو ایک مدت کے لیے وہاں باقی رکھا۔ پھر ابلیس آیا۔ وہ آدم کا مطالعہ کرنے لگا کہ وہ کیا ہے۔ پھر اس نے دیکھا کہ وہ اجوف (hollow) ہے۔ اس نے جان لیا کہ آدم کی تخلیق اس طرح ہوئی ہے کہ اس کے اندر تما لک کی صفت نہیں۔ اس حدیث کے بارے میں التور بشتی نے لکھا ہے کہ " هذا الحديث مشکل جدا ( یہ حدیث بے حد مشکل ہے) لیکن محدث ابن جوزی نے ایک بات لکھی ہے جو گویا اس حدیث کو سمجھنے کے لیے کلید کی حیثیت رکھتی ہے: الأجوف ضعيف الصبر (كشف المشكل من حديث الصحيحين لابن الجوزي (1716 /2138)۔ مذکورہ حدیث میں تما لک کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تما لک کا مطلب ہے— سیلف کنٹرول، یعنی اپنے آپ پر قابورکھنا۔ ابلیس کی یہ تشخیص نہایت درست تھی اور اس کا پہلا مظاہرہ اس طرح ہوا کہ جنت میں آدم اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے۔ انھوں نے واضح ہدایت کے باوجود جنت کے ممنوعہ درخت (forbidden tree) کا پھل کھا لیا۔ تما لک میں اس ناکامی کا نتیجہ یہ ہوا کہ آدم کو جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر بھیج دیا گیا۔
ابلیس نے انسان کی اس کمزوری کو پہلے ہی دن دریافت کر لیا تھا۔ اُس نے یہ جان لیا تھا کہ انسان کو صراط مستقیم سے ہٹانے کا سب سے زیادہ کارگر طریقہ یہ ہے کہ اس کو ایسی خواہشوں میں مبتلا کیا جائے جہاں وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے منحرف ہو جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو ابلیس کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس مقابلے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ابلیس کے وسوسے کو پہچانے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں تذکر (7:201) کہا گیا ہے۔ اس معاملے میں شیطان کی زد سے بچنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر تذکر کی صفت پیدا کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues