تو بہ قریب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۰
تو بہ قریب
قرآن کی سورہ النساء میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (4:14) یعنی تو بہ جس کو قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے وہ ان لوگوں کی ہے جو بری حرکت نادانی سے کر بیٹھتے ہیں، پھر جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی تو بہ اللہ قبول کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ توبہ کا لفظی مطلب ہے لوٹنا۔ یعنی غلطی کرنے کے بعد اصلاح کی طرف لوٹنا۔ قرآن کے مطابق توبہ کی دو صورتیں ہیں، تو بہ قریب اور تو بہ بعید۔ قرآن کے مطابق مطلوب تو بہ وہ ہے جو تو بہ قریب ہو۔ تو بہ بعید اللہ کے نزدیک مطلوب تو بہ نہیں۔ تو بہ قریب ایمانی حساسیت کی علامت ہے اور تو بہ بعید ایمانی بے حسی کی علامت۔ تو بہ قریب یہ ہے کہ آدمی کے اندر غلطی کرنے کے بعد شدید قسم کی ندامت (repentance) پیدا ہو۔ وہ فوراً غلطی کے بعد متنبہ ہو جائے۔ اس کے اندر احساس خطا اتنی شدت کے ساتھ ابھرے کہ وہ اس کا تحمل نہ کر سکے کہ غلطی کے بعد اپنی حالت پر مطمئن بنا رہے۔ شدید احساس خطا کے ساتھ وہ بلا تاخیر غلطی کی تلافی کرنے کی طرف دوڑ پڑے۔
غلطی کے مختلف صورتیں ہیں۔ غلطی اگر مادی نوعیت کی ہے تو وہ جلد سے جلد متعلق شخص کے مالی نقصان کی تلافی کرے۔ اور غلطی اگر اخلاقی نوعیت کی ہے تو وہ فوراً بہتر اخلاقی سلوک کے ساتھ اس کی تلافی کی کوشش کرے۔ اس معاملہ میں سب سے زیادہ سنگین صورت وہ ہے، جب کہ غلطی کی نوعیت ایسی ہو، جس میں اس کی ضرورت ہو کہ غلطی کرنے والا متعلق شخص سے مل کر اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور کھلے طور پر اس سے معافی مانگے۔ اس قسم کی تو بہ کسی انسان پر بہت شاق گزرتی ہے۔ کیوں کہ اس میں آدمی کی بڑائی ختم ہوتی ہے۔ اس کا برتری کا جذ بہ منہدم ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو ایک ایسے شخص کے سامنے چھوٹا بنانا پڑتا ہے، جس کے مقابلہ میں اس نے اپنے آپ کو بڑا فرض کر لیا تھا۔ تو بہ کی یہ قسم نفی خویش (self negation) کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اور نفی خویش بلا شبہ کسی انسان کے لئے سب سے زیادہ سخت بات ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues