Al-Risala · October 2014 · page 33

ایک انسانی کمزوری

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۳

ایک انسانی کمزوری

قرآن کی سورہ المومن میں ارشاد ہوا ہے : وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْآزِفَةِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَظِمِينَ مَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ (40:18-19) یعنی ان کو قریب آنے والی مصیبت کے دن سے ڈراؤ جب کہ دل حلق تک آپہنچیں گے، وہ غم سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے۔ اللہ نگاہوں کی خیانت کو جانتا ہے اور وہ اُن باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو سینے چھپائے ہوئے ہیں۔

اس آیت میں نگاہ کی خیانت اور دل کا اخفا، دونوں انسان کی ایک کمزوری کو بتاتے ہیں۔ اس کی وضاحت ضحاک بن مزاحم (وفات: 723ء) نے اپنے ایک قول میں اس طرح کی ہے: هي قول الإنسان: ما رأيتُ وقد رأى، أو رأيت وما رأى (تفسير القرطبي : (15/303) یعنی اس سے مراد انسان کا یہ قول ہے جب کہ وہ کہے کہ میں نے نہیں دیکھا، حالانکہ اس نے دیکھا ہو۔ وہ کہے کہ میں نے دیکھا، حالانکہ اس نے نہ دیکھا ہو۔ اس سے مراد دراصل وہی چیز ہے جس کو ذہنی بددیانتی (intellectual dishonesty) کہا جاتا ہے۔ یہ کمزوری عورتوں اور مردوں کے درمیان بہت عام ہے۔ لوگ اکثر ایسا کرتے ہیں کہ جو بات اُن کے تصور کے خلاف جاتی ہو، اس کو شعوری یا غیر شعوری طور پر اس طرح بیان کر دیتے ہیں جیسے کہ وہ ماننے کے قابل ہی نہیں۔ اس کے برعکس صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر ذہنی دیانت داری (intellectual honesty) کی صفت موجود ہو۔ اس کا ضمیر (conscience) اتنا زیادہ زندہ ہو کہ وہ اس بات کا تحمل نہ کر سکے کہ وہ ایک ثابت شدہ بات کا انکار کرے اور ایک غیر ثابت شدہ بات کو اپنائے ہوئے ہو۔ ذہنی بددیانتی بلاشبہ کسی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے، اور ذہنی دیانت داری بلاشبہ کسی انسان کی سب سے بڑی طاقت ۔ پہلا انسان ایک مردہ انسان ہے اور دوسرا انسان ایک زندہ انسان۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues

Printed page