عمر بن عبدالعزیز
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۶
عمر بن عبدالعزیز
عمر بن عبدالعزیز (وفات: 720ء) کی پیدائش مدینہ میں ہوئی۔ مگر خلیفہ کی حیثیت سے وہ شام کے شہر دمشق میں رہے جو اس وقت اسلام کا دارالخلافہ تھا۔ آپ کی وفات شام کے ایک اور شہر حلب میں ہوئی ۔ شام کا ملک جن اسلامی شخصیتوں کی یاد دلاتا ہے ان میں سے ایک ممتاز نام عمر بن عبد العزیز کا ہے۔ جو پانچویں خلیفہ راشد کہے جاتے ہیں۔
صحابہ کرام کے بعد پوری اسلامی تاریخ میں عمر بن عبدالعزیز واحد شخص ہیں جو صحابہ کے مزاج سے کامل مناسبت رکھتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز کا مشہور واقعہ ہے کہ جراح بن عبداللہ (عامل خراسان) نے ان سے کہا کہ لوگ کثرت سے مسلمان ہو رہے ہیں اس پر ہمیں پابندی لگانا چاہیے ورنہ حکومت کی آمدنی میں بہت زیادہ کمی ہو جائے گی۔ کیوں کہ اسلام قبول کرتے ہی آدمی کے اوپر سے جزیہ معاف ہو جاتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو داعی بنا کر بھیجا ہے، نہ کہ ٹیکس وصول کرنے والا (إن اللہ إنما بعث محمداً صلى الله عليه وسلم داعياً، ولم يبعثه جابياً) البداية والنهاية 9/ 213۔
عمر بن عبدالعزیز کے اس قول میں جو شعور دعوت“ ہے وہ مجھے صحابہ کے بعد کسی بھی دوسرے شخص کے یہاں نظر نہیں آتا۔
عمر بن عبدالعزیز کا زمانہ پہلی صدی ہجری کا آخری زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ہر طرف فتوحات کا چرچا تھا۔ پوری ملت پر سیاسی اور غزواتی طرزِ فکر چھایا ہوا تھا۔ ایسے حالات میں دعوت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے وہ ذہن درکار تھا جو دور کے خلاف سوچ سکے۔ جو حالات سے اوپر اٹھ کر غیر متاثر انداز میں اپنا ذہن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ عمر بن عبدالعزیز کا مذکورہ قول اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے اندر یہ نادر ترین صفت بدرجہ اتم موجود تھی ۔ انھوں نے دور کے خلاف سوچا۔ وہ عملاً دور تلوار میں تھے، مگر انھوں نے ذہنی سفر کے ذریعہ اپنے آپ کو دور دعوت“ میں پہنچایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues