Al-Risala · November 2014 · page 29

پیغمبرانہ ماڈل، تاریخی ماڈل

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۹

۔۔۔

اس قسم کی تحریکیں موجودہ زمانے میں بہت بڑے پیمانے پر اٹھیں، مگر ہنگامہ خیز جدوجہد کے باوجود وہ عملاً ناکام ثابت ہوئیں۔ اس ناکامی کا سبب صرف ایک تھا، وہ یہ کہ ان تحریکوں کو اللہ کی نصرت حاصل نہیں ہوئی۔ نصرتِ خداوندی سے محرومی کا سبب مشترک طور پر یہ تھا کہ یہ سب تحریکیں تاریخی ماڈل کو لے کر کھڑی ہوئیں ۔ اُن میں سے کوئی بھی تحریک حقیقی طور پر پیغمبرانہ ماڈل کو لے کر نہیں اٹھی۔ پیغمبرانہ ماڈل اور تاریخی ماڈل کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ پیغمبرانہ ماڈل مبنی بر دعوتِ ماڈل ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس ، تاریخی ماڈل مبنی بر سیاست ، مبنی بر تہذیب ، مبنی بر قومیت ہوتا ہے ۔ اِس دنیا میں کوئی تحریک اللہ کی نصرت سے کامیاب ہوتی ہے اور اللہ کی نصرت صرف پیغمبرانہ ماڈل پر آتی ہے ، اس میں ریئٹ اللہ کی نصرت ہے ، جب ہوگی وہ دوسری کسی اور ماڈل پر اللہ کی نصرت کبھی آنے والی نہیں ۔

اور حقیقت کے اس ماڈل کے مقابلے کا کوئی دوسرا A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)

Mahatwana, Phulwarisharif Patna-601505, Bihar Mob. 09308477841, 09852208744 چمپارن (بہار) ماہ نامہ الرسالة اور مطبوعاتِ الرسالة حسبِ ذیل پتے پر دستیابهیں: Kitab Manzil Jama Masjid, Main Road, Motihari East Champaran-845401, Bihar Mob. 09973360552 لگائی جا سکتی ہے اور حقیقت جو ہمارے سامنے ہے اس کا اندازہ اس بنگلور میں ماہ قرآن مجید کے ترجمے اور دعوتی لٹریچر حاصل کرنے کے لیے رابطہ فرمائیں:

‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues

Printed page