Al-Risala · November 2014 · page 35

مسلمانوں کے قومی تقاضے

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۵

مسلمانوں کے قومی تقاضے

حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کا مشن صرف ایک ہے اور وہ ہے دعوت الی اللہ، یعنی ہر زمانے میں اور ہر مقام پر اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہنا۔ قرآن میں یہ بات نہایت واضح ہے۔ سنت رسول سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ اکثر مسلمان دعوت الی اللہ کے کام کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے۔ اس کا سبب ایک "مگر" ہے۔ یہ مگر، قومی مگر ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام طور پر یہ حال ہے کہ وہ اپنے قومی مسائل کو لے کر سوچتے ہیں۔ اس کے مطابق، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قومیں اُن کے خلاف سازش کرتی رہتی ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر وہ دعوت کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے، وہ دعوت کی اہمیت کا اقرار کریں گے، اس کے بعد ایک "مگر" کہہ کر اس کو چھوڑیں گے۔ مذکورہ قومی ذہن کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ دوسروں کے بارے میں ان کی سوچ پوری کی پوری منفی سوچ بن گئی ہے۔ دوسری قوموں کے لیے اُن کے دل میں صرف نفرت ہے، نہ کہ خیر خواہی، اور یہ ایک واقعہ ہے کہ دعوت کا کام ہمیشہ دوسروں کے لیے خیر خواہی کے جذبے کے تحت ہوتا ہے۔ نفرت کے جذبے کے ساتھ کبھی دعوت کا کام نہیں کیا جا سکتا۔

اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، اس دنیا میں مسابقت (competition) اور چیلنج کا نظام قائم ہے۔ مسلمان جن چیزوں کو بطور خود ظلم اور سازش سمجھتے ہیں، وہ سب کے سب اللہ کے اسی تخلیقی منصوبے کی بنا پر ہیں۔ یہ صورتِ حال اس دنیا میں ہمیشہ تھی اور ہمیشہ باقی رہے گی ۔ اس لیے مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی مفروضہ "شکایتوں" کو اللہ کے خانے میں ڈال دیں، جن کو اب تک وہ دوسری قوموں کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ ایسا کرنا مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس قومی ذہن سے آزاد کریں، اس کے بغیر وہ دعوت الی اللہ کی ذمے داری کو ادا نہیں کر سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues

Printed page