مذہبی انتہا پسندی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۷
مذہبی انتہا پسندی
مذہبی انتہا پسندی (religious extremism) کیا ہے ۔ مذہبی انتہا پسندی دراصل دورِ زوال کا ایک ظاہر ہ ہے۔ کوئی امت جب بعد کے زمانے میں زوال (degeneration) کا شکار ہوتی ہے تو اُس وقت امت کے اندر وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کو مذہبی انتہا پسندی کہا جاتا ہے۔ زوال کا تعلق فطرت کے ایک قانون سے ہے۔ اس میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں۔
موجودہ زمانے میں امت مسلمہ اپنے دورِ زوال میں ہے، اور زوال کے دوسرے مظاہر کی طرح اس کے اندر مذہبی انتہا پسندی آچکی ہے۔ قرآن اور حدیث میں مذہبی انتہا پسندی کے لیے جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ غلو ہے۔ کسی امت کی بعد کی نسلوں میں جب زوال آتا ہے تو اُس وقت فطری قانون کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ امت کے افراد میں دین کی اسپرٹ ختم ہو جاتی ہے۔ اُن کے درمیان صرف دین کا فارم باقی رہتا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی دراصل مبنی بر فارم مذہب کا دوسرا نام ہے۔ کسی امت کے دورِ زوال میں جب مبنی بر فارم مذہب کا رواج ہو جاتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ دین کے ہر معاملے میں ظواہر کو اہم سمجھ لیا جاتا ہے۔ اُس وقت فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ قرآن میں صحتِ تلفظ کو ساری اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔ عبادت کے معاملے میں خشوع کے بجائے ارکان کی ادائیگی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ دینی احکام کے معاملے میں ساری بحث اس کے فنی پہلوؤں پر مرتکز ہو جاتی ہے۔ اسلامی زندگی کا مطلب یہ بن جاتا ہے کہ ایک ظاہری شناخت (identity) کو اختیار کر لیا جائے۔ اسلامی دعوت کا مطلب یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ مروجہ سیاسی نظام کو توڑ کر اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ اسلامی حکومت کا مطلب یہ سمجھ لیا جائے کہ بالجبر لوگوں کے اوپر شرعی حدود قائم کی جائے۔ اسلامی مفاد کا مطلب یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ تمام قوموں کو اسلام دشمن قرار دے کر اُن کے خلاف نفرت اور تشدد کا ہنگامہ کیا جائے، وغیرہ۔
کسی امت کا دورِ زوال میں پہنچنا کیا ہے، وہ ایک عمومی مثال کے مطابق ، تازے سے گر کر کھجور پر
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues