Al-Risala · February 2014 · page 14

پروفیشنل رائٹنگ ، پروفیشنل قیادت

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۱۴

پروفیشنل رائٹنگ ، پروفیشنل قیادت

موجودہ زمانے میں جو نئی چیزیں پیدا ہوئیں ، اُن میں سے ایک وہ ہے جس کو پروفیشنل ازم (professionalism) کہا جاتا ہے، یعنی بطور پیشہ (profession) کسی کام کو کرنا۔ نئے حالات کے نتیجے میں جو چیزیں وجود میں آئی ہیں، اُن میں سے دو چیزیں یہ ہیں۔ پروفیشنل جنرل ازم اور پروفیشنل لیڈر شپ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنرل ازم یا لیڈر شپ کو بطور پروفیشن اختیار کرتے ہیں ، نہ کہ بطور مشن۔ یہی وہ پروفیشنل لوگ ہیں جو موجودہ زمانے کے مسائل کے اصل ذمے دار ہیں۔ اپنے ذہنی افتاد کے اعتبار سے، اُن کا نشانہ یہ نہیں ہوتا کہ مسئلے کا حقیقی حل کیا ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ مسئلے کے حوالے سے وہ کون سی بات کہہ سکتے ہیں جو عوام کو زیادہ پسند آئے۔ پروفیشنل صحافیوں اور پروفیشنل لیڈروں کا ذہن عام طور پر یہی ہوتا ہے، خواہ وہ شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طور پر۔ اپنے پروفیشنل مزاج کی بنا پر یہ لوگ ہمیشہ آئیڈیل (ideal) کی بات کرتے ہیں۔ اُن کو اس سے بحث نہیں ہوتی کہ عملی طور پر کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں۔ ان کے پاس ہمیشہ ایک تصوراتی قسم کا معیاری پیمانہ (ideal yardstick) ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ ہر چیز کو ناپتے رہتے ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ— یہ حقوقِ انسانی (human rights) کی خلاف ورزی ہے، یہاں انتظامیہ (administration) نے اپنی ذمے داری ادا نہیں کی ، یہاں اتھارٹیز نے امتیازی سلوک (discrimination) کا معاملہ کیا، یہاں قانون کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، یہاں انصاف (justice) کا طریقہ نہیں اپنایا گیا، یہاں پولس نے اپنی ذمے داری ادا نہیں کی ، یہاں سوک سوسائٹی (civic society) کے نمائندوں کو کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، یہاں لوگوں کے ساتھ دہرے معیار (double standard) کا طریقہ اختیار کیا گیا، وغیرہ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قوّال ہیں ، مگر فعال نہیں اور اسی قسم کے غیر فعال قوالوں نے آج کی دنیا میں تمام مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page