Al-Risala · February 2014 · page 38

یہودی مذہب

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۳۸

ایک فرق پایا جاتا ہے۔ اور وہ تاریخی معنوں میں ہے، یعنی اسلام مکمل طور پر ایک محفوظ مذہب (preserved religion) ہے، جب کہ دوسرے تمام مذاہب تاریخی اعتبار سے غیر محفوظ مذہب (unpreserved religion) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی دوسرے مذہب کا نہ اوریجنل متن پوری طرح محفوظ ہے اور نہ اس کی تعلیمات اپنی اصل صورت میں پائی جاتی ہیں۔ دوسرے تمام مذاہب بعد کو وجود میں آنے والی کلرجی (clergy) کی پیداوار ہیں، نہ کہ اس کے اصل بانی کی وراثت۔ اس تبدیلی، یا غیر محفوظیت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ دیگر مذاہب سے مذہب کی اصل تعلیم ہی حذف ہوگئی۔ مذہب کی اصل تعلیم یہ ہے کہ انسان، خدا کے سامنے جواب دہ (accountable) ہے۔ قرآن میں یہ بات انتہائی واضح طور پر موجود ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو ابتدائی وحی اتری، اس میں پہلے ہی دن یہ حقیقت موجود تھی۔ چناں چہ شروع میں اترنے والی سورہ المدثر میں کہا گیا: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَأَنْذِرُ (74:1-2) یعنی اے پیغمبر، اٹھو اور تمام انسانوں کو یہ وارننگ دے دو کہ وہ خدا کے سامنے جواب دہ ہیں اور بہت جلد حساب کا ایک دن آنے والا ہے، جب کہ تمام لوگوں سے اُن کے قول اور عمل کا حساب لیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کے اپنے ریکارڈ کے مطابق، یا تو جنت میں جگہ ملے گی، یا جہنم میں۔

یہودی مذہب

لیکن یہی اہم ترین تعلیم بقیہ تمام مذاہب میں بعد کے زمانے میں حذف ہوگئی۔ مثلاً یہودی مذہب میں بعد کے زمانے میں، یہودی علما کی خود ساختہ تشریحات کے تحت، یہ عقیدہ یہودی مذہب میں شامل ہو گیا کہ جنت اور جہنم کا معاملہ نسلی معاملہ ہے، یعنی غیر یہودی نسل سب کی سب جہنم میں جائے گی اور یہودی نسل سب کی سب جنت میں۔ اس عقیدے نے یہودیوں کو روزِ حساب (day of judgement) کے معاملے میں کامل طور پر بے خوف بنا دیا۔ حالاں کہ اس قسم کی بے خوفی، خدا کے اصل دین کی منسوخی کے ہم معنی تھی۔

یہودی مذہب میں اس بگاڑ کا حوالہ قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ مثلاً سورہ البقرہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page