Al-Risala · March 2015 · page 41

دوآپشن کے درمیان

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۴۱

دوآپشن کے درمیان

مولانا ابو الکلام آزاد(وفات: 1958) نے اپنے بارے میں لکھا تھا کہ :

’’ زمانے نے میری صلاحیتوں کی قدر نہ کی……‘‘

مولانا آزاد کے اس جملے کا مطلب یہ تھا کہ پیدائشی فطرت کے اعتبار سے، وہ اعلیٰ صلاحیت کے مالک تھے،لیکن دوسرے لوگوں نے اُن کو نہیں پہچانا، اس لیے ان کی صلاحیت پوری طرح استعمال نہ ہوسکی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ احساس صرف ایک آدمی کا احساس نہیں ہے۔ تاریخ میں بہت سے ایسے انسان ہیں جو اپنے احساس کے اعتبار سے غیر استعمال شدہ شخصیت کی حیثیت سے جئے اور اسی احساس کے ساتھ وہ اس دنیا سے چلے گیے۔ ایسے افراد کو بظاہر دوسرے لوگوں سے شکایت تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد اپنے اس احساس کے لیے تمام تر خود ذمہ دار تھے، نہ کہ کوئی دوسرا شخص۔ خالق نے موجودہ دنیا کو جس قانون کے تحت بنایا ہے، اس کے مطابق، کسی انسان کے لیے یہاں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے۔ ایک یہ کہ وہ کسی دوسرے کے بنائے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے آگے سرینڈر کرے، یا وہ اپنے لیے ایک خود تعمیر کردہ دنیا (self-created world) کو تخلیق کرے اور اس کے اندر اپنی مرضی کے مطابق رہے۔ ان دو کے سوا کوئی اور انتخاب کسی شخص کے لیے ممکن نہیں۔

موجودہ دنیا مسابقت (competition) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ کوئی دوسرا شخص آپ کی قدر و قیمت کو پہچانے، اور وہ آپ کے ساتھ وہ سلوک کرے، جو بطور خود آپ اُس سے چاہتے ہیں۔ ایسا کبھی کسی انسان کے لیے نہیں ہوا۔ صلاحیتوں کو دینے والا اللہ رب العالمین ہے اور صلاحیتوں کا استعمال وہی شخص کرتا ہے جس کو صلاحیت دی گئی ہے۔ دوسرے آدمی سے زیادہ سے زیادہ جو امید کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ آپ کے کیے ہوئے کام کا اعتراف کرے۔ اس دنیا میں کوئی بھی شخص آپ کے حصے کا کام نہیں کر سکتا۔ موجودہ دنیا کے لئے یہ مقولہ بالکل درست ہے — کرو یا مرو: Do or die

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page