Al-Risala · April 2015 · page 40

اسلام کے دوپہلو

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۴۰

بغیر جاری کیا جائے اور قیامت تک اس کو جاری رکھا جائے۔

وقت کے مشرکانہ اقتدار سے اسلام کی مسلح مزاحمت (armed struggle) کا تعلق وقتی حالات سے تھا، وہ اسلام کی آئیڈیالوجی کا ابدی حصہ نہ تھا۔ مگر بعد کے زمانے میں حضرت عثمان کی شہادت (35ھ/ 656ء) کے وقت امت میں ایسا بحران (crisis) پیدا ہوا کہ لوگ آئیڈیالوجی اور تاریخ کے اس فرق کو بھول گئے، اور بحرانی حالات کے تحت لوگوں کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہوگئی، جب کہ اللہ کے منصوبے کے مطابق اب جنگ کا زمانہ ختم ہو چکا تھا، اور وہ وقت آگیا تھا کہ معتدل حالات میں توحید کی پر امن دعوت کو شروع کیا جائے، اور اس کو قیامت تک جاری رکھا جائے۔ بعد کے زمانے میں وہ لڑائی پیش آئی، جس کو تاریخ میں فتنہ ابن الزبیر کہا جاتا ہے۔ اس وقت صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ ابن عمر (وفات: 73ھ) مدینہ میں موجود تھے، مگر وہ لڑائی میں شریک نہیں تھے، کچھ لوگ حضرت عبداللہ ابن عمر سے ملے۔ انھوں نے قتالِ فتنہ کی آیت (8:39) کا حوالہ دے کر کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ فتنہ کو ختم کرنے کے لئے جنگ کرو، پھر آپ کیوں ہماری جنگ میں شریک نہیں ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عمر نے جواب دیا: قاتلنا حتی لم تكن فتنة، وكان الدين لله، وأنتم تريدون أن تقاتلوا حتى تكون فتنة، ويكون الدين لغير الله (صحيح البخاري: 4513) یعنی ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا، اور دین اللہ کے لئے ہو گیا، اور تم چاہتے ہو کہ تم لڑو یہاں تک کہ فتنہ دوبارہ آجائے، اور دین غیر خدا کے لئے ہو جائے۔

حضرت عبداللہ ابن عمر کے اس قول پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ کے حکم کے تحت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ شروع ہوئی، وہ ایک وقتی مقصد کے لئے تھی۔ یہ مقصد حضرت عمر فاروق کے زمانہ خلافت میں حاصل ہو گیا۔ اب اہلِ ایمان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی نئے عنوان کے حوالے سے دوبارہ جنگ شروع کر دیں۔ اب اُنھیں صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت اسلام کے پر امن دعوتی مشن میں لگا دیں۔ اگر کوئی شخص یا گروہ دوبارہ جنگ چھیڑنے کی کوشش کرے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ پر امن تدبیر کے ذریعہ جنگ کو روک دیں، تا کہ پر امن دعوت کا کام بلا وقفہ جاری رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page