قرآن ،سنت، اجتہاد
الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۴
انھوں نے کہا تو میں اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق اس کا فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کے رسول کی سنت میں اس کا حکم نہ پاؤ، اور نہ اللہ کی کتاب میں؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور میں اس میں کمی نہیں کروں گا۔ تو رسول اللہ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا، اور فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے فرستادہ کو اس چیز کی توفیق دی جس چیز سے اللہ کا رسول راضی ہے۔
امت کے تمام علماء نے ہر دور میں دین میں اجتہاد کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے، مگر عملاً پچھلے ادوار میں یہ ہوا کہ علماء نے اجتہاد کے اصول کو صرف جزئیاتی مسائل تک محدود رکھا، کلیاتی مسائل میں وہ اجتہاد کے اصول کا انطباق نہ کر سکے۔
مثلاً قرأت فاتحہ خلف الامام پر فقہی بحثیں، آمین بالسر اور آمین بالجهر پر فقہی بحثیں، رمضان میں تراویح کی رکعت پر فقہی بحثیں، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام بحثیں، جزئیاتی بحثیں ہیں۔ مگر علماء نے ان جزئیاتی بحثوں کو اتنی زیادہ اہمیت دی، گویا کہ یہی اجتہاد کے اصل موضوعات ہیں۔ اسلام کے ظہور کے بعد عملاً تقریباً ہزار سال تک وہی روایتی دور (traditional period) قائم تھا جس دور میں کہ اسلام آیا تھا۔ اس لیے اس ہزار سالہ دور میں علما کے اس موقف سے مسلم سماج میں کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ لوگوں کی دینی زندگی بدستور چلتی رہی۔ لیکن انیسویں صدی عیسوی میں انسانی تاریخ میں ایک بڑا ظاہر ہ پیدا ہوا، جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ یہ ظاہر ہ اکیسویں صدی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ جدید تہذیب نے ہر اعتبار سے زندگی کے نقشے کو بدل دیا ہے۔ اب ضرورت تھی کہ کلیاتی مسائل کی سبت سے اجتہاد کے اصول کو استعمال کیا جائے، اور نئے حالات میں اسلام کی تطبیق نو (reapplication) کو تلاش کیا جائے ۔ مگر علماء اس اجتہاد میں مکمل طور پر نا کام ہو گئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ دین کے جزئیاتی مسائل میں اجتہاد کے اصول کی تطبیق جانتے تھے، مگر دین کے کلیاتی مسائل میں اجتہاد کی تطبیق سے وہ کامل طور پر بے خبر تھے۔ اجتہاد کے معاملے میں علماء کی اس ناکامی نے امت مسلمہ کو