Al-Risala · May 2015 · page 6

قرآن ،سنت، اجتہاد

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۶

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں 6 ہجری میں حدیبیہ کا معاہدہ پیش آیا۔ اس کے بعد یہ آیت اتری: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا ۝ (48:1-3) یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی، تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کر دے، اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔ قرآن کی اس آیت میں فتح مبین (clear victory) اور نصر عزیز (mighty help)

وقتی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ ابدی معنی میں ہے۔ اسلام کے حق میں اللہ کی اس نصرت خاص کا ظہور فوری طور پر یہ ہوا کہ اس معاہدہ کے جلد ہی بعد مکہ فتح ہو گیا، اور پھر اسلام سارے عرب میں پھیل گیا۔ یہ گویا موعود فتح مبین کا پہلا مرحلہ (first phase) تھا۔

اس فتح کا دوسرا مرحلہ (second phase) ایک عمل (process) کی صورت میں تاریخ میں جاری ہوا۔ اس عمل نے تاریخ انسانی میں پہلی بار فتح کو مقامی معاملے کے بجائے ایک عالمی واقعہ بنا دیا۔ اللہ کی یہی وہ نصرت خاص ہے، جوجدید تہذیب کی صورت میں اسلام کے حق میں ظاہر ہوئی۔ اس تہذیب کے لیڈر چونکہ سیکولر لوگ تھے، اس لیے علمائے اسلام اس کی حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔ حالانکہ حدیث رسول میں پیشگی طور پر امت کو اس سے باخبر کر دیا گیا تھا۔

اس دور کے مسلم علما قرآن و سنت پر زور دیتے رہے، بطور خود انھوں نے سمجھا کہ وہ صراطِ مستقیم پر ہیں، حالانکہ اجتہاد کو عملاً حذف کرنے کی بنا پر وہ صراط مستقیم سے ہٹ چکے تھے۔ اس معاملے کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ زمانے کے علماء ایک غلط آبسیشن (obsession) کا شکار ہو گئے۔ وہ ایک نئے قسم کی ڈائکاٹمس تھنکنگ (dichotomous thinking) کے ٹریپ (trap) میں مبتلا ہو گئے۔ وہ تیسرے آپشن (third option) کو استعمال کرنے سے قاصر رہے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام مسائل کا اصل سبب ہے۔ ان مسائل کا حل تیسرے آپشن کو استعمال کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page