Al-Risala · January 2015 · page 20

شکر کی نفسیات میں جینا

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۲۰

شکر کی نفسیات میں جینا

مسلمان ہر روز اپنی نماز میں قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہیں: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (1:1) یعنی ساری حمد صرف اللہ کے لیے ہے جو سارے عالم کا رب رہے- حمد کی حقیقت شکر ہے۔ ساری حمد اللہ کے لیے ہے، کا مطلب یہ ہے کہ سارا شکر اللہ کے لیے ہے۔

قرآن کی اس آیت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اس کو صرف زبان سے پڑھ دیا جائے، بلکہ وہ ایک تربیت کا کلمہ ہے۔ وہ ہر روز مسلمان کو ایک حقیقت کی یاد دلاتا ہے۔ وہ یہ کہ انسان کو چاہئے کہ وہ روزانہ پیش آنے والے واقعات پر غور کرے۔ وہ واقعات کی ایسی مثبت توجیہہ (positive explanation) تلاش کرے، جو اس کو ہر حال میں شکر کرنے والا انسان بنادے، وہ ہر دن اس احساس سے بھرا رہے کہ کائنات کا خالق ایک نہایت مہربان خالق ہے، وہ ہر وقت خالق کے لیے اور تمام انسانوں کے لیے شکر و اعتراف کا رسپانس (response) دیتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت مومن کی حقیقی تصویر کو بتا رہی ہے۔ سچا مومن وہ ہے جو الحمد للہ کی نفسیات میں جیے۔ اس کے برعکس جو انسان لا حمد للہ کی نفسیات میں جیتا ہو، وہ سچا مومن نہیں۔ وہ زبان سے تو الحمد للہ کہتا ہے، لیکن اس کا دل عملاً یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ لا حمد للہ۔ یہ نفسیات منافقت کی نفسیات ہے، نہ کہ ایمان کی نفسیات۔

اس معاملہ کا تعلق حالات کی توجیہہ سے ہے۔ جو آدمی حالات کی مثبت توجیہہ کرے، وہ الحمد للہ کی نفسیات میں جئے گا، اور جو آدمی حالات کی مثبت توجیہہ نہ کر سکے، وہ لا حمد للہ کی نفسیات میں جینے والا انسان بن جائے گا۔ الحمد للہ شکر کا کلمہ ہے اور لا حمد للہ ناشکری کا کلمہ۔ گویا کہ الحمد للہ کہنے سے پہلے ایک اور چیز مطلوب ہے، اور وہ ہے الحمد للہ کی شعوری معرفت۔ جو آدمی الحمد للہ کہنے سے پہلے اس کی شعوری معرفت حاصل کر چکا ہو، وہی درست طور پر الحمد للہ کہے گا، اور جو آدمی اس شعوری معرفت سے خالی ہو، اس کی زندگی میں الحمد للہ ایک حقیقت کے طور پر شامل نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page