مدعو داعی کے دروازے پر
الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۱۰
انسان کی تخلیق مغل دور کے شاعر ذوق دہلوی نے کہا تھا:
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں کاغزکاٹناشروع کیا۔
یہ ایک شاعرانہ تخیل ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ نے کائنات پیدا کی۔ اس کا ایک حصہ مادی دنیا (physical world) تھا۔ مادی دنیا خالق کے مقابلے میں کامل سرینڈر (total surrender) کا کیس تھی۔ اس کے بعد کائنات میں فرشتے تھے۔ جو گویا معرفت (realization) کا کیس تھے۔ مگر اس کے باوجود کائنات میں ایک خانہ خالی تھا۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے انسان کو بنایا گیا۔ انسان ایک انوکھی مخلوق ہے، جو خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسان کو اعلیٰ درجے کا دماغ دیا گیا۔ اس کو کامل آزادی دی گئی۔ اس کو یہ موقع دیا گیا کہ کامل آزادی کے ماحول میں وہ اپنی عقل کو استعمال کرے۔ وہ خود اپنے فکری عمل کے ذریعے خالق کو دریافت کرے۔ وہ کسی جبر (compulsion) کے بغیر خود اپنے شعور کے تحت یہ گواہی دے کہ خدایا میں نے تجھ کو دریافت کیا۔ کامل اختیار رکھتے ہوئے، میں تیرا اعتراف کرتا ہوں۔ تجھ کو قادرِ مطلق مانتے ہوئے، یہ اعتراف کرتا ہوں کہ تیرے مقابلے میں، میں عاجزِ مطلق ہوں۔ میرا وجود اور جو کچھ میرے پاس ہے، وہ سب تیرا عطیہ ہے، وہ میری اپنی تخلیق نہیں۔ انسان کی یہی امتیازی صفت ہے۔ وہ خود دریافت کردہ حقیقت کا کیس ہے۔ یہ انوکھا واقعہ اس وقت ممکن ہوتا ہے، جب کہ انسان اپنے عقلی امکان کو درست طور پر استعمال کرے۔ وہ ہر قسم کے بھٹکاؤ (distraction) سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ انا (ego) رکھتے ہوئے، اپنے آپ کو بے انا (egoless) بنا لے۔ وہ منفی آئٹم کے جنگل میں، اپنے آپ کو مثبت سوچ (positive thinking) King) رہتاہے۔ (egoless) آپ اپنے آپ کوبت پـ پرقائم رکھے۔ یہی وہ انسان ہے جس کے لیے جنت کی معیاری دنیا بنائی گئی ہے۔