تخلیق کا مقصد
الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۱۸
تخلیق کا مقصد
انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے۔ اس کو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (51:56)۔ قرآن کی اس آیت میں ليعبدون کی تفسیر ليعرفون (تفسیر القرطبی) سے کی گئی ہے۔ اس کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے کہ جن اور انس کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) کی بنیاد پر وہ اللہ کے عابد بنیں۔ کائنات کی بقیہ مخلوقات تسخیر کے تحت اللہ کی عابد بنی ہوئی ہیں۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے اپنے خالق کو دریافت کرے، اور پھر اس کا عابد بن جائے۔ اللہ کا عابد بننا کیا ہے۔ اللہ کا عابد بننا یہ ہے کہ انسان اپنے خالق کو اس کی صفات کمال کے ساتھ اس طرح دریافت کرے کہ خالق ہی اس کا واحد کنسرن (sole concern) بن جائے۔ اللہ کو واحد کنسرن بنانا کوئی قانون کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ تمام تر معرفت (realization) کا معاملہ ہے۔ ایک انسان جب تدبر اور تفکر کے ذریعہ اپنے رب کو دریافت کرتا ہے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اللہ رب العالمین اس کا معبود بن جاتا ہے، اللہ کی دریافت اس کے لیے ایک ماسٹر اسٹروک (masterstroke) بن جاتی ہے، جو اس کی پوری زندگی کو اس طرح ہلا دے کہ اس کے فکر و عمل کا کوئی پہلو اس سے محفوظ نہ رہے۔
عابدِ عارف کی تائید کے لیے خالق نے یہ انتظام کیا ہے کہ معرفت کا ڈیٹا (data) آیات فطرت (signs of nature) کی صورت میں ساری کائنات میں پھیلا دیا ہے۔ انسان سے مطلوب ہے کہ وہ اپنی خدا داد عقل کو استعمال کر کے اپنی شخصیت کی تعمیر کرے۔ جو آدمی اس طریقہ پر عمل کرے گا، وہ اللہ کی توفیق سے ضرور کامیابی کے مرحلے تک پہنچ جائے گا۔ معرفت کے اس سفر میں کامیابی کی یہ لازمی شرط ہے کہ آدمی پوری طرح سنجیدہ (sincere) ہو۔ جو آدمی اس شرط کو پورا کرے، وہ ضرور اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب رہے گا۔