Al-Risala · May 2015 · page 36

تقدیر اور تدبیر

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۳۶

لیکن درست طور پر سانس لینے کے لئے ضروری ہے کہ باہر کی دنیا میں آکسیجن کی سپلائی کا نظام موجود ہو۔ آکسیجن کی مسلسل سپلائی کے بغیر کوئی آدمی سانس نہیں لے سکتا۔ جب کہ سانس کے بغیر انسان کے لئے اس دنیا میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔

یہ صورت حال بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان دو طرفہ تقاضوں کے درمیان ہے۔ یک اعتبار سے وہ آزاد ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ مجبور ہے۔ اپنے ارادے کے استعمال کے اعتبار سے وہ پوری طرح آزاد ہے۔ لیکن اس اعتبار سے وہ مجبور ہے کہ اپنے ارادے کا آزادانہ استعمال وہ خالق کے مقرر کیے ہوئے انفراسٹرکچر کے بغیر نہیں کر سکتا۔ جبر واختیار کی اس درمیانی صورت حال کو علم العقائد میں وَسَطِیَّہ کہا جاتا ہے۔ یہی وسطیہ کا نظریہ اس معاملے میں صحیح نظریہ ہے۔

تقدیر اور تدبیر کی بحث بہت پرانی ہے۔ قدیم فلاسفہ نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے، اور بعد کے زمانے میں بھی اس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مگر اس موضوع پر لوگوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کو پڑھ کر قاری کو کنفیوزن کے سوا کچھ اور نہیں ملتا۔ آدمی اس مسئلے کا واضح جواب چاہتا ہے۔ لیکن اس کو موجودہ لٹریچر میں اس کا واضح جواب نہیں ملتا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ عام طور پر کسی ایک پہلو کی طرف جھک جاتے ہیں۔ وہ سارے معاملے کو بھلا کر تقدیر کا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں یا تدبیر کا۔ مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک طرفہ سوچ درست نہیں۔ یہ لوگ جب اس معاملے کو تقدیر کا مسئلہ بتا کر اس کی وضاحت کرتے ہیں تو قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ تدبیر کا پہلو اس میں نظر انداز ہو گیا ہے۔ اسی طرح جو لوگ تدبیر کو اصل قرار دے کر اس پر بحث کرتے ہیں تو قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ اس میں تقدیر کے پہلو کی رعایت موجود نہیں۔ یہی چیز ہے جو قاری کے لیے کنفیوزن کا سبب بن جاتی ہے۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، یہ مسئلہ تقدیر اور تدبیر دونوں کے درمیان کا مسئلہ ہے۔ اگر آپ دونوں پہلوؤں کو لے کر غور کریں تو کنفیوزن ختم ہو جائے گا۔ اور آپ اس مسئلے کے بارے میں یقینی جواب تک پہنچ جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page