Al-Risala · June 2015 · page 14

دعوتِ فرضِ عین یا فرضِ کفایہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۱۴

دعوتِ فرضِ عین یا فرضِ کفایہ

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دعوتِ الی اللہ کا کام فرض کفایہ ہے، وہ فرض عین نہیں، یعنی اگر کچھ لوگ دعوت کا کام انجام دیں تو بقیہ لوگوں سے اُس کی فرضیت ساقط ہو جائے گی۔ یہ تصور یقینی طور پر ایک بے بنیاد تصور ہے۔

جہاں تک فرض عین کا تعلق ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ فرض عین وہ ہے جس کی ادائیگی ہر فرد کے لیے ضروری ہے اور جس کی ادائیگی کے بغیر کسی انسان کی اخروی نجات ممکن نہیں۔ مثلاً نماز فرض عین ہے اور متفقہ طور پر ترکِ نماز سے آدمی کی نجات یقینی طور پر مشتبہ ہو جاتی ہے۔ یہی معاملہ دعوتِ الی اللہ کا ہے۔

دعوتِ الی اللہ کیا ہے، وہ دراصل ”ختمِ نبوت“ کے عقیدے کا جز ہے۔ جب ایک صاحبِ ایمان یہ اقرار کرتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے تو اس کے بعد اُس کے اوپر یہ لازم آ جاتا ہے کہ وہ خاتم النبیین کے بعد آپ کے پیغام کو بعد کی نسلوں میں جاری رکھے۔ نبوت بلاشبہ ختم ہوگئی، لیکن کارِ نبوت بدستور جاری ہے۔ دعوتِ الی اللہ کا مقصد اس کارِ نبوت کو مسلسل نسل در نسل جاری رکھنا ہے۔ اس لیے دعوتِ الی اللہ کا کام ایک مسلسل کام ہے نہ کہ کوئی وقتی کام۔

دعوتِ فرض عین ہے یا فرض کفایہ کا سوال اس وقت ہوتا ہے، جب کہ دعوت کو محض اعلانِ غیر کے معنی میں لیا جائے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دعوت ایک شخصی عبادت ہے۔ دعوت کا نہایت گہرا تعلق انسان کی ذاتی تربیت اور ذاتی طور پر تعمیرِ شخصیت سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوتِ الی اللہ کا کام کیے بغیر کسی مومن کی مومنانہ شخصیت کی تکمیل نہیں ہوتی، کسی مومن کے اندر وہ اعلیٰ شخصیت نہیں بنتی جو آخرت کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ داعی ایک اعتبار سے دوسروں کو سچائی کا پیغام پہنچاتا ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ خود اپنے آپ کو سچائی پر کھڑا کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ آخرت میں اس کو مقعدِ صدق (seat of truth) پر جگہ پانے کا اعزاز حاصل ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues

Printed page