Al-Risala · June 2015 · page 18

دعوتِ قول بلیغ کی زبان میں

الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۱۸

قرآن کے الفاظ میں رکون ہوگا جو انسان کو اللہ کے یہاں سخت مواخذہ کا مستحق بنا دیتا ہے۔ -وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ (11:113) یعنی ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا ورنہ تم کو آگ پکڑلے گی اور اللہ کے مدروں ! ـــــــــــــ كى اسى صراحت كے سوا تمھا را کوئی مددگار نہیں ، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤ گے ۔

دعوتِ قول بلیغ کی زبان میں

شان ِ نزول کی روایت کا یہ ایک مختصر سا قصّہ ، کا سفری مشاہدات کی شہادت یا دعوت کا یہ کام ایک ابدی قسم کا پیغمبرانہ مشن ہے۔ اس کو ہر زمانے میں مسلسل طور پر انجام دینا ہے۔ اس مشن کا اصل پیغام تو ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ لیکن زمانی تبدیلیوں کے اعتبار سے اس کی ادائیگی میں فرق ہوتا رہے گا۔ شہادت یا دعوت کے اس عمل کی ادائیگی کو مؤثر بنانے کے لیے اس طرح انجام دینا ہوگا کہ وہ ہر زمانے کے ذہن کو ایڈریس کرسکے۔ اس زمانی رعایت کے بغیر حجت کی شرط پوری نہیں ہوسکتی ، جو کہ اس کام کی حسن ادائیگی کی لازمی شرط ہے۔

دعوتِ دورِ تعقل میں

دعوتِ ارشادِ امّت کا پیغام ان مشہورسفر کے تجربوں کی روشنی میں جن کو دعوت یا شہادت کا یہ پیغمبرانہ سفر کرتے ہوئے، اب پندرھویں صدی ہجری (اکیسویں صدی عیسوی) میں داخل ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانہ کو دورِ تعقل (age of reason) کہا جاتا ہے۔ اب ضروری ہے کہ جدید ذہن (modern mind) کی نسبت سے اس کو عقلی طور پر مدلل صورت میں پیش کیا جائے ۔ اس کے بغیر مطلوب معیار پر اس کام کی انجام دہی نہیں ہوسکتی ۔ شہادتِ اعظم بعد کے دور میں شہادت کا یہ دعوتی عمل عالمی سطح پر مزید اضافے کے ساتھ انجام پائے گا۔ اس دعوتی واقعے کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دور آئے گا جب کہ شہادت علی الناس یا دعوت الی اللہ کے اس کام کو حجت (reason) کی سطح پر انجام دینا ضروری ہوگا۔ اس وقت امت کے جو افراد وقت کے استدلالی معیار پر اس دعوتی کام کو انجام دیں گے، ۔۔۔ سياستِ مدن “اور تصورِ شاہین‘‘

‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues

Printed page