پیغمبرِ اسلام کی آخری وصیت
الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۲۸
اسی طرح ان لوگوں کو قرآن کی وہ آیت یاد دلانا ہے، جس میں قتل کی برائی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا (5:32)۔ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا۔
اسی طرح ان لوگوں کو یہ بتانا کہ مسلمان کا مسلمان کو مارنا قرآن کے مطابق ایک جہنمی فعل ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (4:93)۔ اور جو شخص کسی مومن کو جان کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
پیغمبرِ اسلام کی آخری وصیت
آج شدید ضرورت ہے کہ پیغمبرِ اسلام کے اس انتباہ کو تمام دنیا کے مسلمانوں کو یاد دلایا جائے جو آپ نے اپنے آخری زمانے میں حجۃ الوداع کے موقع پر دیا تھا۔ صحیح البخاری کی روایت کے مطابق اس کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عباس رضي الله عنهما، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس يوم النحر فقال : يا أيها الناس أي يوم هذا؟ ، قالوا : يوم حرام، قال: فأي بلد هذا؟ ، قالوا: بلد حرام، قال: فأي شهر هذا؟ ، قالوا : شهر حرام، قال : فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا، فأعادها مرارا، ثم رفع رأسه فقال : اللهم هل بلغت، اللهم هل بلغت - قال ابن عباس رضي الله عنهما: فو الذي نفسي بيده، إنها لوصيته إلى أمته، فليبلغ الشاهد الغائب، لا ترجعوا بعدي كفاراً، يضرب بعضكم رقاب بعض (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1739)۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues