Al-Risala · June 2015 · page 42

قرآن و سنت

الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۴۲

قرآن و سنت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دور آخر کی ایک حدیث ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما: كتاب الله وسنة نبيه (مؤطا امام مالك: 1874) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمھارے درمیان دوچیزیں چھوڑی ہیں، تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے، جب تک تم ان دونوں چیزوں کو پکڑے رہوگے، وہ دو چیزیں ہیں: اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔ یہ حدیث اس معیار (criterion) کو بتاتی ہے جس کی روشنی میں بعد کے زمانے کے مسلمانوں کو جانچ کر یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ صراطِ مستقیم پر قائم ہیں یا وہ اس سے ہٹ گئے ہیں۔ اس معاملے کا یہی واحد معیار ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا معیار اس معاملے میں درست نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمانوں کے درمیان پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) قرآن و سنت ہو تو وہ ہدایت پر ہیں، اور جب ان کے درمیان پوائنٹ آف ریفرنس کچھ اور ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ہدایت پر قائم نہیں۔ جب مسلمانوں کی کتابیں قرآن و سنت پر مبنی ہوں، جب ان کی مجلسوں میں قرآن و سنت کا چرچاہو، جب وہ ہر معاملے میں قرآن و سنت سے رہنمائی لیتے ہوں، جب ان کا یہ حال ہو کہ وہ قرآن و سنت کے نام پر بولیں اور قرآن و سنت کے نام پر چپ ہو جائیں، تب سمجھنا چاہئے کہ وہ ہدایت پر ہیں اور جب ایسا نہ ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہدایت سے بھٹک گئے ہیں۔ تاہم قرآن و سنت سے ہٹنے کی ایک اور صورت ہے، جو قرآن و سنت کا نام لینے کے باوجود باقی رہتی ہے، اور یہ وہی ہے جس کو حدیث میں تفسیر بالرائے کہاگیا ہے۔ تفسیر بالرائے کا مطلب ہے قرآن و سنت کی غلط تعبیر (misinterpretation)۔ غلط تعبیر و تشریح کا یہ امکان ہمیشہ باقی رہے گا۔ انسان کو اس دنیا میں کامل آزادی دی گئی ہے۔ انسان جس طرح دوسری باتوں کے لیے آزاد ہے، اسی طرح وہ قرآن و حدیث کی غلط تشریح کے لیے بھی آزاد ہے، اس برائی سے بچنے کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ انسان کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی خود ساختہ تشریح کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues

Printed page