موت کے دروازے پر
الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۴۵
موت کے دروازے پر
آدمی سمجھتا ہے کہ وہ زندگی میں جی رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد موت کے دروازے پر کھڑا ہوا ہے۔ جب موت کا کوئی وقت مقرر نہیں تو ہر لمحہ موت کا لمحہ ہے۔ انسان کا ہر اگلا قدم موت کی طرف جانے والا قدم ہے۔ زندگی ہر انسان کے لیے صرف آج کا تجربہ ہے، کل کا تجربہ نہیں۔ ہر آدمی کے لیے آج کا دن زندگی کا دن ہے اور کل کا دن موت کا دن۔
موت معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف سفر کا نام ہے۔ آدمی روزانہ سفر کرتا ہے۔ کبھی چھوٹا سفر اور کبھی بڑا سفر، کبھی ملک کے اندر سفر اور کبھی ملک کے باہر سفر۔ یہ تمام اسفار ایک معلوم مقام سے چل کر دوسرے معلوم مقام تک جانے کے ہم معنی ہوتے ہیں۔ اس قسم کے سفروں سے آدمی اتنا زیادہ مانوس ہو چکا ہے کہ وہ اس کو کوئی سنگین چیز نہیں سمجھتا۔
لیکن موت کے سفر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ موت کے سفر میں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک معلوم دنیا سے نکل کر دوسری نامعلوم دنیا کی طرف جاتا ہے۔ یہ بلاشبہ ہر آدمی کے لیے ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ مگر آدمی اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے اس کی سنگینی کو محسوس نہیں کر پاتا وہ دنیا میں جن اسفار کا تجربہ کرتا ہے، ان سے وہ اتنا مانوس ہو جاتا ہے کہ وہ گہرے شعور کے تحت، موت کے سفر جیسے سفر کا ادراک نہیں کرتا۔ اسی بنا پر ہر آدمی کے لیے موت ایک دور کی خبر بنی ہوئی ہے، وہ اس کے لیے قریب کا کوئی واقعہ نہیں۔
آدمی اپنے مزاج کی بنا پر ہمیشہ کنڈیشننگ کے تحت سوچتا ہے۔ یہی انسان کی بے حسی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ موت کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی کنڈیشننگ کو توڑے، وہ اپنے مانوس ذہن سے باہر آ کر موت کے بارے میں سوچے، وہ اپنے شعور کو کامل طور پر بیدار کرے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آدمی موت کی حقیقت کو سمجھے، جو بلاشبہ ہر انسان کا سب سے زیادہ سنگین معاملہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues