Al-Risala · July 2015 · page 24

حمد اور کبد کے درمیان

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۴

حمد اور کبد کے درمیان

قرآن میں ایک طرف حمدِ خداوندی کی تعلیم دی گئی رہے۔ دوسری طرف یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق دنیا انسان کے لیے کبد (90:4) کی دنیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسائل کے درمیان رہتے ہوئے خدا کا شکر کرنے والے بنو۔ ناپسندیدہ حالات میں بھی تمہارا دل شکر الہی کے مثبت جذبات سے معمور رہے۔ حمد اللہ کی نسبت سے مطلوب ہے، اور صبر انسان کی نسبت سے۔ قرآن کے اس بیان کے مطابق، دنیا انسان کے لیے دارالكبد ہے۔ ایسی حالت میں، وہ کس طرح سچا شکر گزار بن کر رہ سکتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ حمد اللہ کی نسبت سے ہے، اور کبد انسان کی نسبت سے۔ انسان سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد اور شکر ہے۔ دار الكبد میں انسان شکر گزار کیسے بنے۔ اس کا جواب صبر ہے۔ مومن کو انسان کی زیادتیوں پر صبر کرنا ہے تا کہ اس کے اندر شکر کی اسپرٹ باقی رہے، وہ ہر حال میں اپنے رب کے لیے شکر کا رسپانس دیتا ہے۔ دوسروں کے مقابلے میں صبر کرنا کوئی منفی بات نہیں۔ اس میں خود انسان کی اپنی بھلائی چھپی ہوئی ہے۔

جو شخص انسان کی زیادتیوں پر صبر کرے گا اس کے اندر ذہنی انضباط (intellectual discipline) کی صلاحیت پرورش پائے گی۔ اس کے اندر ذہنی بیداری آئے گی۔ وہ ایک سنجیدہ انسان بن جائے گا۔ اس کی فطرت میں چھپے ہوئے امکانات (potential) اُن فولڈ (unfold) ہونے لگیں گے۔ اس کے اندر گہری سوچ (deep thinking) پیدا ہوگی۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جائے گا کہ اعلیٰ معرفت کی سطح پر جینے لگے۔ وہ ایک دانش مند انسان (man of wisdom) بن جائے گا۔

انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کے کبد (مسائل) پر ری ایکٹ (react) کرنے کے بجائے ان کے بارے میں آرٹ آف مینجمنٹ سیکھے۔ یہی وہ واحد قیمت ہے جس کو ادا کر کے انسان اس قابل ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنے خالق کی مرضی کے مطابق رہے، اور آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues

Printed page