Al-Risala · July 2015 · page 36

یتیم کی کفالت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۳۶

یتیم کی کفالت

یتیم کی کفالت ایک ایسا عمل ہے جس کو اسلام میں بہت بڑا درجہ دیا گیا ہے۔ یتیم کی کفالت آدمی کو جنت کا مستحق بناتی ہے۔ یتیم کی کفالت کے بارے میں کئی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے: عن سهل بن سعد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أنا وكافل الیتیم في الجنة هكذا" وقال بإصبعيه السبابة والوسطى ( صحيح البخاري: 6005) یعنی سہل بن سعد روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا، جنت میں اس طرح قریب ہوں گے، جیسے میرے ہاتھ کی دو انگلیاں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص یتیم کی کفالت کرے اس کو جنت میں پیغمبر سے قربت کا درجہ ملے گا۔ کفالت کا مطلب ہے، نان نفقہ کی ذمے داری (to provide support)۔ یعنی کوئی بچہ یتیم ہو جائے تو اس کی خبر گیری کرنا، اس کی ضروریات زندگی کا ضامن بن جانا، اس کی تعلیم اور اس کے اقتصادیات کا انتظام کرنا، وغیرہ۔

اسلام کے مطابق، یتیم کی کفالت ایک اعلیٰ اخلاقی اصول ہے۔ جب ایک بچہ اپنے فطری سر پرست سے محروم ہو جائے تو اس کے رشتہ داروں اور اس کے جاننے والوں اور حکومت کا یہ فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اس کا سہارا بنیں۔ وہ اس کو اس قابل بنا ئیں کہ وہ بڑا ہو کر خود کفیل زندگی گزارنے کے قابل ہو جائے ۔ وہ دوسرے لوگوں کی طرح با عزت زندگی گزارنے لگے۔

اسلامی نقطہ نظر سے یہ صرف ایک اخلاق کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ خود اپنے لیے عمل کی زبان میں ایک دعا ہے۔ جس آدمی کو یتیم پر رحم آئے، اور وہ اس کا سپورٹر بن جائے ۔ وہ گویا عمل کی زبان میں یہ دعا کر رہا ہے کہ خدایا، آخرت کے دن میں اسی طرح ایک تنہا انسان بن جاؤں گا، میرے تمام دنیوی سہارے مجھ سے چھوٹ جائیں گے، اس وقت تو میری مدد فرما، اپنی رحمت کے ذریعے مجھ کو آخرت کے دور میں جنتی زندگی عطا فرما۔ اسلامی عقیدہ کفالت کے معاملے کو ایک ذاتی محرک (incentive) عطا کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues

Printed page