Al-Risala · August 2015 · page 32

ٹیم کی تربیت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۳۲

دعوت کی ذمے داری ایک صاحب برطانیہ سے اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں :

آج میں نے مئی 2015 کا اردو رسالہ انٹرنیٹ پر پڑھنا شروع کیا تو میری نظر ایک مضمون "مدعو دائی کے دروازے پر (صفحہ 11) پر پڑی ۔ یہ پڑھتے ہوئے مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آ گیا جو آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ تین سال پہلے مجھے اپنے چند دوستوں کے ساتھ یونان کے ایک شہر کوس (Kos) کی سیاحت کا موقع ملا۔ کوس میں ہم لوگوں کو ایک تاریخی مسجد دکھائی دی تو نماز کے ارادے سے ہم لوگ اس میں داخل ہوئے۔ ہم نے دیکھا کہ وہاں کافی تعداد میں غیر مسلم مسجد کی وزٹ کے لیے داخل ہو رہے ہیں۔ پھر ادھر ادھر کچھ دیکھ کر نکل جاتے ہیں۔ میں نے وہاں یہ دیکھا کہ مسجد کے امام صاحب وہاں بیٹھے قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں اور ان کو اس بات کا بالکل احساس نہیں کہ کون آیا کون گیا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ غیر مسلم خود یہاں آتے ہیں لیکن ہم اپنی بے شعوری کی بنا پر ان کو کچھ پیش نہیں کر پاتے۔ میں اکثر یہ واقعہ یاد کر کے دکھی ہوتا ہوں اور آج پھر آپ کا مضمون پڑھ کر مجھے پورا منظر یاد آ گیا۔ کاش! مسلمان اس کو سمجھ سکتے اور اپنی دعوتی ذمے داری کو ادا کرتے۔ (ایم حنیف، پرسٹن، برطانیہ)

یہ صرف ایک شہر کی بات نہیں ہے۔ یہی معاملہ پوری دنیا کا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان تقریباً ہر ملک میں بسے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ بڑی تعداد میں سیاح (tourist) آتے ہیں۔ اس طرح ساری دنیا میں مسلمانوں کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنی دعوتی ذمے داری کو ادا کریں، اور اللہ کا پیغام تمام انسانوں تک پہنچائیں۔

اس دعوتی ذمے داری کو ادا کرنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ ہر مسلمان قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر اپنے بیگ میں رکھے۔ ہر بار جب اس کا سامنا کسی انسان سے ہو تو وہ اس کو قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر پیش کرے۔ اس معاملے میں اسلامی لٹریچر کی حیثیت سپورٹنگ لٹریچر کی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page