محبت کا معاملہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۶
محبت کا معاملہ
ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: أحبوا الله لما یغذوکم من نعمه وأحبوني بحب الله وأحبوا أهل بيتي لحبي (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3789)۔ یعنی اللہ سے محبت کرو، اس بنا پر کہ وہ تم کو اپنی نعمتوں سے غذا عطا کرتا ہے، اور مجھ سے محبت کرو اللہ سے محبت کی بنا پر، اور میرے اہلِ بیت سے محبت کرو میری وجہ سے۔ اس حدیث میں تین محبتوں کا ذکر ہے۔ پہلی محبت ہے اللہ کی نعمتوں کی بنا پر اللہ سے محبت کرنا۔ یہاں غذا صرف خوراک کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ ہر قسم کے عطیاتِ الہی کے معنی میں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو دریافت کرے ۔ ان نعمتوں پر غور و فكر کرے۔ ان نعمتوں کی اہمیت کا بار بار چرچا کرے ۔ اس طرح فطری طور پر ایسا ہوگا کہ اس کے اندر اللہ سے حبِ شدید (strong affection) پیدا ہو جائے گا۔ انسان اللہ کو کچھ نہیں دے سکتا۔ انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ کے عطیات کا گہرا اعتراف کرے۔ اسی گہرے اعتراف کا نام حبِ الہی ہے۔ اللہ کے لیے پیغمبر سے محبت کرنا یہ ہے کہ پیغمبر کے اس معاملے کو گہرائی کے ساتھ دریافت کرنا کہ پیغمبر کے ذریعے ہم کو وہ ہدایت ملی جو ہم کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ دریافت جتنی زیادہ شدید ہوگی، اتنی ہی زیادہ آدمی کے اندر پیغمبر خدا کے ساتھ محبت پیدا ہو جائے گی۔ پیغمبر کے اہل بیت سے محبت اس لیے ہے کہ اہل بیت نے پیغمبر کے مشن میں مکمل طور پر ساتھ دیا۔ کسی تکلیف یا شکایت کو انھوں نے عذر نہیں بنایا۔ وہ یک طرفہ وفاداری کے ساتھ پیغمبر سے جڑے رہے۔ محبت کی یہ تینوں قسمیں ایک دوسرے سے الگ الگ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اللہ سے محبت کے بعد فطری طور پر پیغمبر سے محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور پیغمبر سے محبت کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ پیغمبر کے اہل بیت سے آدمی کے اندر محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ پیغمبر کو اپنے مشن میں طرح طرح کے مشکل حالات پیش آئے، مگر اہل بیت کے تعلق میں کوئی کمی نہیں آئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues