Al-Risala · September 2015 · page 22

ایک اجتماعی اصول

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۲

ایک اجتماعی اصول

قرآن کی سورہ نمبر 4 میں ایک اجتماعی حکم کو بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: جب ان کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں۔ اور اگر وہ اس کو رسول تک یا اپنے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو ان میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں، وہ اس کی حقیقت جان لیتے ۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے ۔ (النساء: 83)

اس آیت کا ابتدائی مفہوم یہ ہے کہ جنگ اور امن کے حالات کا تعلق حکومت کے ذمہ داروں سے ہوتا ہے، اس لیے اس نوعیت کی کوئی بات ہو تو لوگوں کو چاہیے کہ اس کو حکومت کے ذمہ داروں تک پہنچائیں، تاکہ وہ اس کے بارے میں صحیح کارروائی کر سکیں۔

قرآن کی اس آیت سے ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کسی شخص کو کسی معاملے سے متعلق کوئی بات کہنا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ بات کو اس سے کہے جس کا اس معاملے سے تعلق ہے۔ متعلق اشخاص سے بات کہنا سماج میں اصلاح پیدا کرتا ہے۔ اور بات کو غیر متعلق اشخاص سے کہنا سماج میں فساد پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔

خاص طور پر جب کوئی منفی بات یا شکایت کی بات ہو تو ایسی بات کو غیر متعلق اشخاص سے بیان کرنا نہایت بری عادت ہے۔ کسی آدمی کے پاس اگر ایسی کوئی بات ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے دل میں رکھے اور سب سے پہلے متعلق شخص سے مل کر اس کی وضاحت معلوم کرے۔ یہی طریقہ صحیح اسلامی طریقہ ہے۔

سماج میں اکثر خرابیاں بات سے پیدا ہوتی ہیں۔ لوگوں کا عام مزاج یہ ہے کہ جب ان کو کوئی بری بات معلوم ہو تو وہ فوراً اس کا چرچا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ چرچا عام طور پر غیر متعلق اشخاص کے درمیان کیا جاتا ہے۔ متعلق شخص سے سنجیدہ انداز میں گفتگو کرنا ہی اس معاملے میں واحد صحیح طریقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues

Printed page