Al-Risala · September 2015 · page 24

علم معرفت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۴

علم معرفت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الإيمان معرفة بالقلب، وقول باللسان، وعمل بالأركان (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 65) یعنی علی ابن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان قلبی معرفت کا نام ہے، اور زبان سے اقرار کا، اور ارکان پر عمل کرنے کا۔ جس طرح بیج سے پورا درخت نکلتا ہے، یہی معاملہ اسلام کا ہے۔ اسلام کا آغاز معرفت (realization of God) سے ہوتا ہے۔ معرفت جب آدمی کے شعور کا حصہ بن جاتی ہے، تو اسی کا نام ایمان ہے۔ معرفت جب یقین (conviction) بن کر آدمی کی زبان پر جاری ہو جائے تو اسی کا نام لسانی اقرار ہے۔ معرفت جب آدمی کے عمل میں ڈھل جائے تو اسی کا نام ارکان دین کی عملی پیروی کرنا ہے ۔ جس طرح بیج کے اندر پورا درخت ہوتا ہے، اسی طرح معرفت کے اندر پورا اسلام موجود ہوتا ہے۔ معرفت ابتدائی طور پر انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں موجود ہوتی ہے۔ پھر آدمی جب غور وفکر کرتا ہے تو معرفت ان فولڈ (unfold) ہونے لگتی ہے۔ قرآن میں تدبر اور کائنات میں غور وفکر کے ذریعے معرفت اپنے ارتقائی درجے تک پہنچتی ہے۔ اسلام کی بعد کی تاریخ میں معرفت کا تصور حذف ہو گیا۔ علم کلام بظاہر معرفت کا علم تھا، لیکن متکلمین نے علم کلام کو یونانیات پر مبنی کر دیا۔ اس لیے علم کلام حقیقی معنوں میں معرفت کا علم نہ بن سکا ۔ صوفیا نے بظاہر معرفت کو اپنا موضوع بنایا، لیکن انھوں نے غلطی کی کہ معرفت کو تدبر (contemplation) یعنی عقلی غور وفکر پر مبنی قرار نہیں دیا، بلکہ انھوں نے مراقبہ (meditation) کو معرفت کا سر چشمہ سمجھ لیا۔ یعنی جو چیز عقل کے ذریعے ملنے والی تھی، اس کو دل (heart) میں تلاش کرنے لگے۔ معرفت دل کے اندر موجود ہی نہ تھی، اس لیے صوفیا کو حقیقی معرفت نہیں ملی۔ اس طرح متکلمین بھی معرفت سے محروم ہو گئے اور صوفیا بھی۔ یہی معاملہ فقہ کے ساتھ پیش آیا جو معرفت کے بجائے ظواہر احکام کا موضوع بن کر رہ گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues

Printed page