Al-Risala · September 2015 · page 43

افادہ اور استفادہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۳

افادہ اور استفادہ

ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری ( وفات 256ھ ) اور محمد بن عیسیٰ الترمذی ( وفات 279ھ )، دونوں ہم عصر تھے۔ دونوں کا شمار اکابر محدثین میں ہوتا ہے۔ اگر چہ امام البخاری کو اولیت حاصل ہے۔ امام الترمذی، امام البخاری کے شاگرد تھے۔ تاہم امام البخاری نے اپنے شاگرد امام الترمذی سے کہا: ما انتفعت بك اكثر مما انتفعت بی (التہذیب لابن حجر 9/ 389) یعنی میں نے تم سے اس سے زیادہ فائدہ اٹھایا جتنا تم نے مجھ سے فائدہ اٹھایا۔

یہ کوئی فضیلت یا علمی کمال کی بات نہیں، بلکہ وہ ایک فطری حقیقت ہے۔ جو کہ افادہ اور استفادہ کی صورت میں دونوں فریق کو حاصل ہوتا ہے۔ افادہ کا مطلب دوسرے کو فائدہ پہنچانا، جس کو تعلیم کہا جاتا ہے۔ اور استفادہ کا مطلب تعلم (learning) ہے۔ یعنی دوسرے سے سیکھنا۔

اصل یہ ہے کہ دو انسان آپس میں سنجیدہ گفتگو کریں، دونوں کے درمیان کھلا ماحول ہو، دونوں کو یہ موقع ہو کہ وہ اپنی بات کو کسی تحفظ (reservation) کے بغیر دوسرے سے کہیں تو ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ دو نقطۂ نظر کے درمیان ٹکراؤ سے معاملے کا ایک تیسرا پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اس طرح دونوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ گفتگو کو اپنے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنائیں، دونوں ایک دوسرے سے سیکھیں بھی اور سکھائیں بھی۔

دو یا چند انسانوں کے درمیان تبادلہ خیال (exchange) بہت بڑی نعمت ہے۔ وہ ہمیشہ ہر فریق کے لیے فائدے کا سبب بنتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ تبادلہ خیال کے دونوں فریق سنجیدہ ہوں۔ وہ صحیح معنوں میں سچائی کے طالب ہوں۔ ان کے اندر یہ مزاج ہو کہ وہ نہ تعریف سے خوش ہوں اور نہ تنقید کو برا مانیں۔ وہ کسی بات کو بات کے لحاظ سے دیکھیں، نہ کہ اپنی ذات کے اعتبار سے۔ وہ تعصب سے خالی ہو کر اپنی بات کہیں اور دوسرے کی بات سنیں۔ ان کے اندر یہ مزاج نہ ہو کہ اپنی بات کو ہر حال میں صحیح ثابت کرنا ہے، اور دوسرے کی بات کو ہر حال میں رد کرنا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2015 All issues

Printed page