ربط کے بغیر ملاقات
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۲
ربط کے بغیر ملاقات
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے ضعیف پیدا کیا ہے۔ یعنی انسان پیدائشی طور پر یہ احساس لے کر پیدا ہوتا ہے کہ میں ایک عاجز مخلوق ہوں۔ اپنے عجز کی تلافی کے لئے وہ ہمیشہ ایک سہارے کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس چیز کو معبود کہا جاتا ہے۔ ایک خالق کے سوا کسی اور کو معبود بنانا یہ شرک ہے۔ انسان کے لئے حقیقی سہارا صرف ایک ہے اور وہ اللہ رب العالمین ہے۔ یہ سہارا اگر چہ بظاہر غیب میں ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ انسان کے بالکل قریب (2:186) موجود ہے۔ یہ قرب اتنی زیادہ حقیقی ہے کہ حدیث کے الفاظ میں ہمیشہ وہ اس سے سرگوشی کرتا رہتا ہے۔ بظاہر اس کا معبود مادی اعتبار سے اس کے قریب نظر نہیں آتا، لیکن انسان کے لئے ہر وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ نفسیاتی اعتبار سے اپنے رب سے مکمل ربط حاصل کر سکے۔ یہ ایک ایسا ربط (contact) ہے جو بظاہر براہ راست ملاقات کے بغیر حاصل ہوتا ہے۔ جس انسان کا ذہنی ارتقاء اعلیٰ صورت میں ہوا ہو، وہ ہر لمحہ اس اعلیٰ ربط (high contact) کا تجربہ کرتا ہے۔ ایسا انسان جب بھی دوسری چیزوں سے کٹ کر اپنے اندر detached thinking کی کیفیت پیدا کرتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے رب سے بالکل قریب پہنچ گیا ہے۔ حتیٰ کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے سرگوشی کے انداز میں بات کر رہا ہے۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یناجی ربہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 405) ربط کے بغیر اپنے رب سے ملاقات کا یہ تجربہ بلاشبہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑا تجربہ ہے۔ یہ تجربہ ہر انسان کے لئے ممکن ہے بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرے۔ براہ راست ربط کے بغیر ملاقات قدیم زمانے میں ایک بعید چیز معلوم ہوتی تھی۔ مگر موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن کی ترقی نے اس معاملے کو انسان کے لیے قابل فہم بنا دیا ہے۔ موجودہ کمیونی کیشن گویا براہ راست ربط کے بغیر ملاقات کا ایک مظاہرہ (demonstration) ہے۔ خدا سے انسان کا یہی ربط نفسیات کی سطح پر ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues