جنت اور جہنم
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۳۹
جنت اور جہنم
اسلام کی تعلیم کے مطابق، موجودہ دنیا ایک عارضی دنیا ہے۔ ہر انسان کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ موت کے بعد آخرت کی دنیا میں پہنچے، جہاں لوگوں کو ان کے عمل کے مطابق یا جنت میں جگہ ملے گی یا جہنم میں۔
اس تعلیم کے مطابق، جنت اور جہنم دونوں زندہ حقیقتیں ہیں۔ دونوں اسی طرح ایک زندہ واقعہ ہیں، جس طرح تاج محل ایک زندہ واقعہ ہے، یا لال قلعہ ایک زندہ واقعہ ہے۔ اسلام جب لوگوں کے اندر اپنی اسپرٹ کے ساتھ زندہ ہو تو اسلام کو ماننے والا ہر آدمی جنت اور جہنم کو حقیقی واقعہ سمجھتا ہے۔ اس کے اندر جنت کا زندہ اشتیاق موجود ہوتا ہے، اور جہنم کا زندہ خوف۔
مگر جب امت پر زوال کا دور آجائے، اس وقت امت کے افراد میں جنت اور جہنم کا زندہ تصور موجود نہیں رہتا۔ اس کے افراد رسمی عقیدے کے طور پر جنت اور جہنم کو مانتے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا کہ جنت ان کا سب سے بڑا کُنسرن (concern) بنا ہوا ہو، اور جہنم کا خوف ان کے سینے میں ایک زلزلہ بن کر سمایا ہوا ہو۔ ان کا حال عملاً وہی ہو جاتا ہے جو حیوانات کا حال ہوتا ہے۔ حیوانات کے اندر نہ جنت کا شوق ہوتا ہے، اور نہ جہنم کا خوف۔ یہی حال زوال یافتہ لوگوں کا ہو جاتا ہے۔ وہ رسمی عقیدے کے طور پر جنت اور جہنم کو مانتے ہیں، لیکن زندہ عقیدے کے طور پر جنت اور جہنم ان کے ذہن کا جز نہیں ہوتا۔ قرآن میں ہے : وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضَ (3:133) یعنی اور دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ اس کے برعکس، جہنم کا تذکرہ قرآن میں بار بار اس طرح ہولناک انداز میں کیا گیا ہے کہ اگر آدمی سوچے تو اس کا چین اور سکون ختم ہو جائے۔ لیکن دورِ زوال میں امت کے افراد کے اندر نہ جنت کا شدید اشتیاق موجود رہتا ہے، اور نہ جہنم کا شدید خوف۔ دورِ زوال کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues