Al-Risala · October 2015 · page 42

خالق کی کاملّیت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۲

خالق کی کاملّیت

قرآن (الملک: 3) میں چیلنج کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی تخلیق میں کوئی فطور (flaw) نہیں ۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی کوشش کرے، وہ کائنات میں کسی قسم کے فطور کی نشاندہی نہیں کر سکتا۔ یہ دراصل تخلیق کے حوالے سے خالق کی صفت کا بیان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا خالق آخری حد تک ایک کامل ہستی ہے۔

خدا جب کامل ہے تو اس کا عطیہ کبھی غیر کامل نہیں ہو سکتا۔ یہ ناممکن ہے کہ خدا انسان کو عارضی زندگی دے لیکن ابدی زندگی سے اس کو محروم رکھے۔ وہ انسان کو خواہش (desire) دے، لیکن وہ اس کو فل فلمینٹ (fulfillment) سے محروم رکھے۔ وہ انسان کو غم دے لیکن وہ اس کو خوشی سے محروم رکھے۔ وہ انسان کو نقصان کا تجربہ کرائے لیکن وہ اس کو یافت کے تجربے سے محروم رکھے۔ وہ انسان کو معیار پسند (idealist) بنائے لیکن آئیڈیل ورلڈ (ideal world) سے وہ اس کو محروم رکھے۔ وہ انسان کو مستقبل میں بنائے لیکن وہ اس کو مستقبل سے محروم رکھے۔

تخلیق میں اس قسم کا فرق ہونا، خدا کی کاملّیت کے خلاف ہے۔ اور یہ بلاشبہ ناممکن ہے کہ خدا کی کاملّیت میں کوئی غیر کامل پہلو موجود ہو۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے لیے خدا کا عطیہ کبھی غیر کامل نہیں ہو سکتا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا ارحم الراحمین ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے استحقاق (deservation) میں کوئی کمی ہو تو خدا اپنی رحمت سے اس کو پورا کر دیتا ہے۔ وہ انسان کی عملی کوتاہی کی تلافی اپنی رحمت کے ذریعے کر دیتا ہے۔

ایک حدیث قدسی میں آیا ہے: أنا عند ظن عبدي بي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7405) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کی کمی کو دیکھ کر مایوس نہ ہو، بلکہ وہ خدا کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے دعا کرے کہ اے خدا تو میرے ساتھ میرے عمل کے مطابق فیصلہ نہ فرما، بلکہ تو میرے ساتھ اپنی رحمت کے مطابق فیصلہ فرما۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues

Printed page