سوچنے کا طریقہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۵، صفحہ ۴۴
سوچنے کا طریقہ
آبسیشن (obsession) کا لفظ عام طور پر negative معنی میں لیا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص اپنے فخر کے obsession میں جینے لگے، وغیرہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ obsession کی دو قسمیں ہیں — wrong obsession اور right obsession۔ جس طرح ایسا ہوتا ہے کہ غلط obsession آدمیی کے اوپر چھا جاتا ہے اور وہ right thinking کے قابل نہیں رہتا، اسی طرح right obsession بھی صحیح موقف کو متعین کرنے کے سلسلہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ right obsession کی ایک مثال یہ ہے کہ مسلمانوں کی پچھلی ہزار سال کی تاریخ میں ایک بات بہت بار دہرائی گئی کہ قرآن وسنت کا اتباع کرو، قرآن وسنت کا اتباع کرو۔ اس طرح قرآن وسنت کا اتباع مسلمانوں کے لیے ایک obsession بن گیا۔ بظاہر یہ ایک right obsession تھا۔ مگر ہزار سال کے دوران ٹریڈیشنل فریم ورک کی بنا پر وہ لوگوں کو right نظر آتا رہا۔ مگر 20 ویں صدی میں جب زمانہ بدلا اور سائنٹفک فریم ورک کا دور آ گیا تو مسلم ذہنوں کا یہ آبسیشن دور جدید میں عملاً غیر متعلق (irrelevant) ہو گیا۔ اس دور میں جو مسلم رہنما اٹھے وہ بدستور قرآن وسنت کی اتباع پر زور دیتے رہے، لیکن وہ یہ سمجھ نہ سکے کہ اب نئے فریم ورک کا زمانہ آ گیا ہے۔ اب قرآن وسنت کے ساتھ اجتہاد کا اضافہ کرنا ہوگا تب آدم قدیم آبسیشن سے باہر آ کر صحیح انداز میں سوچنے کے قابل ہوگا۔ روایتی طرز فکر کے مطابق انسان صرف ایک ڈائی کاٹومی (dichotomy) میں سوچتا تھا۔ صحیح اور غلط، right or wrong۔ مگر موجودہ زمانہ میں یہ ڈائی کاٹومی بدل گئی ہے۔ اب ایک تیسری چیز وجود میں آئی، وہ تھی حالات کے اعتبار سے غیر متعلق (irrelevant) ہونا۔ قرآن وسنت کی ڈائی کاٹومی بذات خود صحیح تھی۔ مگر یہ آبسیشن موجودہ زمانہ میں غیر متعلق (irrelevant) بن گیا۔ کیوں کہ اب نئے حالات میں قرآن وسنت کا ٹریڈیشنل تصور نا کافی ہو گیا۔ اب ضروری تھا کہ قرآن وسنت میں اجتہاد کا اضافہ کر کے اسلام کو دوبارہ نئے حالات کے مطابق متعلق (relevant) بنایا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2015 All issues