Al-Risala · November 2015 · page 18

توحید کا آغاز

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۸

نے انسان کو دھوکہ میں ڈال دیا۔ لوگ انھیں مظاہر کو عظیم سمجھنے لگے۔ حالانکہ انھیں چاہیے تھا کہ وہ ان تمام چیزوں کو عظیم خدا کی مخلوق سمجھیں۔ مگر اس کے برعکس انھوں نے خود مخلوقات ہی کو خدا سمجھ کر ان کو پوجنا شروع کر دیا۔

موجودہ زمانہ میں مذکورہ دونوں افسانوں کا خاتمہ ہو گیا۔ ایک طرف جمہوری افکار کے ذریعہ ساری دنیا میں جو طاقتور سیاسی انقلاب آیا اس نے قدیم طرز کی مشرکانہ بادشاہت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔

اب آج کی دنیا میں قدیم طرز کے بادشاہوں کا کہیں وجود نہیں۔ وہ جدید جمہوریت کے سیلاب میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ اس جدید سیاسی انقلاب کے بعد مشرکانہ عقیدہ یا مشرکانہ نظام اس مؤثر سر پرستی سے محروم ہو گیا جو رد شرک اور اثبات توحید کی دعوت میں طاقتور رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اب یہ امکان پوری طرح کھل گیا ہے کہ پیغمبرانہ دعوت کو بھر پور طور پر جاری کیا جائے اور اس کو اس طرح چلایا جائے کہ اول سے آخر تک کسی بھی مرحلہ میں اس کو کسی مزاحمت کا خطرہ نہ ہو۔

توحید کا آغاز

توحید کا آغاز معرفت (realization) سے ہوتا ہے۔ یعنی خدا کو خالق و مالک کی حیثیت سے دریافت کرنا۔ کسی انسان کو جب خدا کی یہ معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کا حال کیا ہوتا ہے۔ اس کو قرآن میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے : اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اس سبب سے کہ ان کو حق کی معرفت حاصل ہوئی۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اُس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔ پس اللہ ان کو اس قول کے بدلہ میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues

Printed page