دورِ سائنس
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۵، صفحہ ۲۶
انسانی صنعت صرف تہذیب کو وجود میں نہیں لاتی، بلکہ وہ اسی کے ساتھ صنعتی کثافت (industrial pollution) بھی پیدا کرتی ہے۔
اکیسویں صدی عیسوی میں یہ صنعتی کثافت اپنی اُس حد کو پہنچ گئی جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ جدید صنعت ہمارے لیے جو دنیا بنا رہی ہے، وہ ایک پرکثافت دنیا ہے، یعنی ایک ایسی دنیا جہاں انسان جیسی کسی مخلوق کے لیے رہنا ہی ممکن نہیں۔
انسان یہ سمجھتا تھا کہ صنعتی تہذیب اُس کے لیے اسی دنیا کو جنت بنا دے گی، مگر معلوم ہوا کہ صنعتی تہذیب جو دنیا بنا رہی ہے، وہ اپنی آخری حد پر پہنچ کر انسان کے لیے ایک صنعتی جہنم (industrial hell) کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس طرح، صنعتی تہذیب کا مفروضہ معبود بھی ایک باطل معبود ثابت ہوا۔
اب انسان نے ایک اور معبود تلاش کیا۔ یہ معبود انسان کی خود اپنی ذات، یا سیلف (self) ہے۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ خود انسان کے اندر وہ سب کچھ موجود ہے جس کو وہ اپنے باہر تلاش کر رہا ہے۔ اس ذہن کے تحت، یہ فرض کر لیا گیا کہ انسانی وجود کا صرف ایک منفی پہلو ہے، اور وہ موت ہے۔ لوگوں کو یہ یقین ہو گیا کہ جدید میڈیکل سائنس یہ مسئلہ حل کر دے گی اور انسان ابدی طور پر اس دنیا میں جینے کے قابل ہو جائے گا۔
مگر میڈیکل سائنس بے شمار تحقیقات کے باوجود اس معاملے میں ناکام ہوگئی، جدید میڈیکل سائنس، انسان کو ابدی زندگی (longevity) کا فارمولا نہ بتا سکی۔ چناں چہ یہ نظریہ معبودیت بھی بے بنیاد ثابت ہو کر ختم ہو گیا۔
اب انسانی علم اُس مقام پر پہنچا ہے، جہاں اس کے لیے صرف ایک انتخاب (choice) باقی رہ گیا ہے، اور وہ یہ کہ وہ حقیقت پسند بنے اور اللہ واحد کو اپنا معبود تسلیم کر کے اس کے آگے جھک جائے۔ اِسی حقیقت پسندانہ اعتراف میں انسان کی دنیوی کامیابی کا راز بھی ہے اور اِسی میں اس کی اُخروی کامیابی کا راز بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2015 All issues