امن کی تلاش
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۶
امن کی تلاش
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں توحید کا مشن شروع کیا۔ اس وقت قریش کے لوگ شرک کی حمایت میں اپوزیشن کا رول ادا کرنے لگے۔ اس درمیان مختلف قسم کے واقعات پیش آئے۔ آخر کار ہجرت کے چھٹے سال پیغمبر اسلام نے قریش سے قیام امن کی بات چیت شروع کی۔ اس گفت وشنید میں آپ نے جو کچھ کہا، ان میں سے ایک بات یہ تھی: یا ویح قریش، لقد أكلتهم الحرب، ماذا عليهم لو خلوا بيني وبين سائر الناس (مسند احمد، حدیث نمبر 18910)۔ یعنی افسوس ہے قریش پر ، ان کو جنگ کھا گئی، ان کا کیا نقصان ہے، اگر وہ میرے اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں۔
اس قول کا پس منظر یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں قبائلی دور تھا۔ اس دور میں قبائل کے درمیان مسلسل لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ اسلام آیا تو قریش کی ضد کی بنا پر دوبارہ لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ عرب کے لوگ اس صورت حال سے پریشان تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح عرب میں امن قائم ہوجائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت حال کا اندازہ کیا اور گفت وشنید کے بعد فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مانتے ہوئے ان سے امن سمجھوتہ کر لیا، جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ امن قائم ہونے کے بعد رسول اور اصحاب رسول کو موقع ملا کہ وہ آزادانہ طور پر لوگوں کے درمیان توحید کا مشن جاری کر سکیں ۔ پیغمبر اسلام نے ایک طرف عرب کے قبائل کے درمیان وفود بھیجے، دوسری طرف عرب کے باہر جو حکومتیں قائم تھیں، ان کو دعوتی خطوط روانہ کیے ۔ یہ ایک پر امن دعوتی جدو جہد تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف چند سال کے اندر اسلام پورے عرب میں پھیل گیا۔ یہی صورت حال موجودہ زمانے میں پیدا ہو گئی ہے۔ دنیا کے لوگ جنگوں سے اکتا چکے ہیں۔ وہ امن چاہتے ہیں۔ مسلمان اگر اس موقع کو پہچانیں، اور امن قائم کر کے لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچا ئیں تو عین ممکن ہے کہ تاریخ دوبارہ اپنے آپ کو دہرائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues