امتِ مسلمہ کا فائنل رول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۵، صفحہ ۱۳
امتِ مسلمہ کا فائنل رول
قرآن کی سورہ نمبر 25 میں یہ آیت آئی ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (الفرقان: 1) یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن) اتارا تاکہ وہ سارے عالم کے لئے خبردار کرنے والا بنے۔
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن سارے عالم میں پھیلے گا، یہاں تک کہ اس کا پیغام زمین پر بسنے والے ہر مرد اور ہر عورت تک پہنچ جائے گا۔
یہی بات حدیثِ رسول میں اس طرح بیان کی گئی ہے: عن المقداد بن الأسود عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر، ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام، بعز عزيز أو ذل ذليل (مسند احمد، حدیث نمبر 23814) مقداد بن اسود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین پر کوئی چھوٹا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت کے ساتھ، ذلت والے کو ذلت کے ساتھ۔ (یعنی اسلام کا پیغام ماننے والوں تک بھی اور نہ ماننے والوں تک بھی)۔
یہ حدیثِ رسول پیشینگی خبر کی زبان میں یہ بتا رہی ہے کہ آخری دور میں امت کا فائنل رول کیا ہوگا۔ وہ رول یہ ہوگا کہ امت اپنے زمانے کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے کلام (word of God) کو دنیا کے ہر گوشے میں پہنچادے، یہاں تک کہ کوئی عورت یا مرد اس سے بے خبر نہ رہے۔ اس حدیث میں کلمۃ الاسلام سے مراد قرآن ہے۔ قرآن کو ہر انسان تک پہنچانا کسی پر اسرار طریقے پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ دوسرے واقعات کی طرح اسباب کے ذریعے ہوگا۔ بعد کے دور میں ایسے اسباب انسان کے دسترس میں آئیں گے جن کو استعمال کرکے امت خدا کی کتاب کو تمام انسانوں تک پہنچادے۔ قرآن کو سارے عالم تک پہنچانا ایک ایسا کام ہے جو امتِ مسلمہ محض اپنی طاقت سے نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of December 2015 All issues