Al-Risala · February 2015 · page 15

معلومِ حق

الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۵

معلومِ حق

قرآن کی سورہ المعارج میں اہل ایمان کی ایک صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: وَالَّذِيْنَ فِيْ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ (70:24-25) یعنی اور جن کے مالوں میں متعین حق ہے سائل اور محروم کا۔

سائل اور محروم کا ایک حق وہ ہے جو قانونی طور پر معلوم ہوتا ہے۔ اسی معلوم حق کو شریعت میں زکوٰۃ کہا گیا ہے۔ اس حق کی ادائیگی کے معاملے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم (البخاري، رقم الحديث: 1395) یعنی ان کے مال والوں سے لینا اور ان کے بے مال والوں کی طرف لوٹانا۔

یہ معلوم حق کا ابتدائی مفہوم ہے۔ لیکن معلوم حق کا ایک اور مفہوم ہے، جو غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ سائل کو باروزگار بنانا تا کہ وہ خود اپنی کمائی سے اپنی ضرورت کو پورا کر سکے۔ اسی طرح محروم کا معلوم حق یہ ہے کہ اُس کے اس تقاضے کو پورا کیا جائے کہ وہ بھی سماجی زندگی میں برابر کا درجہ پاسکے۔

محروم کے اس معلوم حق کو پورا کرنے کے لئے مسلمانوں نے تو کچھ نہیں کیا، البتہ مغرب کے سیکولر لوگوں نے اس معاملے میں اتنا زیادہ کیا کہ اس کو ایک مستقل شعبہ کی حیثیت دے دی ۔ قدیم زمانے میں ایسے لوگوں کو ناقص الاعضاء (disabled) کہا جاتا تھا۔ اہلِ مغرب نے چاہا کہ ایسے لوگوں سے احساسِ کم تری کو ختم کریں ۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ناقص الاعضا افراد بھی کسی اور پہلو سے امکانی طور پر غیر ناقص ہوتے ہیں۔ چنانچہ 1980 میں ان کے لیے ایک نیا ٹرم وضع کیا گیا جس کو ڈ فریقینٹلی ایبلڈ (differently abled) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کے لوگوں کے لیے ایسے طریقے دریافت کیے گئے ہیں جن کو اختیار کر کے ناقص الاعضا شخص بھی نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues

Printed page