Al-Risala · February 2015 · page 25

دعوتِ ان ایکشن

الرسالہ، فروری ۲۰۱۵، صفحہ ۲۵

اس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ انسان اس کائنات میں ایک عاجز اور حقیر مخلوق ہے۔ خدا انسان کی ایک ایسی لازمی ضرورت ہے جس کے بغیر اس کا کوئی وجود ہی ممکن نہیں۔ یہ بلاشبہہ زندگی کی سب سے زیادہ اہم حقیقت ہے۔ اس حقیقت کا ادراک جب آدمی کو ہو جائے تو وہ بے اختیارانہ طور پر خدا کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار اٹھتا ہے کہ خدا یا میری مدد فرما۔ تیری مدد کے بغیر میرا کوئی بھی کام بننے والا نہیں۔ اتھاہ کائنات میں خدا انسان کا سہارا ہے۔ وہ انسان کی کشتی کو سہارا دے کر اس کو ساحل تک پہنچانے والا ہے۔ خدا کا عقیدہ انسان کے لیے سب کچھ ہے۔ اس عقیدہ کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں۔ انسان کے عجز (helplessness) کا احساس جو کائنات کو دیکھ کر ہوتا ہے وہی ہر آدمی کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں بھی لازمی طور پر پیش آتا ہے۔ ہر عورت اور مرد بار بار اس تجربہ سے گزرتے ہیں کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ محدودیت (limitation) کا شکار ہیں۔ وہ جو کچھ چاہتے ہیں اس کو وہ پا نہیں سکتے۔ ان کی زندگی بار بار ایسے احوال میں پھنس جاتی ہے جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس (helpless) محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اسی کے ساتھ نقصان کا خوف، بیماری اور حادثہ اور بڑھاپا اور موت کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہر آدمی اپنے سے برتر کسی طاقت کا محتاج ہے۔ ایک superior power کی مدد کے بغیر وہ اپنے کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔ یہ احساس گویا خدا کے وجود کا ایک نفسیاتی ثبوت ہے۔ ہر آدمی لازمی طور پر اس نفسیاتی تجربہ سے دوچار ہوتا ہے۔ ہر آدمی خود اپنے اندر خدا کے وجود کی یقینی گواہی پا رہا ہے۔ ہر آدمی کی فطرت مستقل طور پر اس کو یہ آواز دے رہی ہے کہ تم کو ایک خدا کی ضرورت ہے۔ خدا کے بغیر تمہاری زندگی مکمل نہیں ہوسکتی۔ خدا کی مدد کے بغیر تم اپنے آپ کو کامیاب نہیں بنا سکتے۔ دعوتی مقصد کے لیے بہار اور جھارکھنڈ کے قارئین، حسب ذیل پتے پر رابطہ قائم کریں: A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)

Mahatwana, Phulwarisharif, Patna-601505, Bihar Mob. 09308477841, 09852208744

‹ Previous page Next page › Contents of February 2015 All issues

Printed page