Al-Risala · March 2016 · page 5

انٹلیکچول ایمپاورمینٹ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۶، صفحہ ۵

انٹلیکچول ایمپاورمینٹ

آج کل ایک لفظ بہت استعمال ہوتا ہے، وہ ایمپاورمینٹ (empowerment) کا لفظ ہے۔ ایمپاورمینٹ کا مطلب وہی ہے جس کو عربی زبان میں تمکین کہتے ہیں، یعنی طاقت ور بنانا۔ این جی او (NGOs) سے وابستہ لوگ اکثر اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً: Women empowerment, rural empowerment, Muslim empowerment, etc. اس قسم کے ایمپاورمینٹ کی جزئی افادیت ہوسکتی ہے، لیکن زیادہ اہم ایمپاورمینٹ، انٹلیکچول ایمپاورمینٹ (intellectual empowerment) ہے۔ یعنی لوگوں کو فکری طاقت دینا، اُن کے اندر معاملہ فہمی کی صلاحیت پیدا کرنا، ان کے اندر آرٹ آف تھنکنگ (art of thinking) پیدا کرنا، ان کو اس قابل بنانا کہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو سمجھیں، وہ درست منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا کام کریں۔ لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا، فارمل ایجوکیشن کے معنوں میں بھی، اور انفارمل ایجوکیشن کے معنوں میں بھی۔

لوگوں کے اندر سب سے زیادہ کمی یہی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ صحیح طرزِ فکر کیا ہے اور غلط طرزِ فکر کیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ عام طور پر لوگ شکایت کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ وہ اپنی غلط سوچ اور اپنے غلط عمل کی قیمت ادا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی سازش اور ظلم کی بنا پر ایسا ہو رہا ہے۔ اسی بنا پر لوگوں کا یہ حال ہے کہ جہاں چپ رہنا چاہیے، وہاں وہ بولتے ہیں۔ جہاں اقدام نہ کرنا چاہیے، وہاں وہ چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ جہاں ایڈجسٹ کرنا چاہیے، وہاں وہ لڑنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں سے دوستانہ تعلق قائم کرنا چاہئے، اُن کو وہ اپنا دشمن سمجھ کر اُن سے دور ہو جاتے ہیں۔ وہ خود ساختہ طور پر دوسروں کو اپنا ”غیر“ سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ اس دنیا میں ہر شخص اپنا ہے، کوئی بھی کسی کے لیے غیر نہیں۔ اسی بنا پر لوگ صبر وتحمل کی اہمیت کو نہیں سمجھتے، حالاں کہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے زیادہ کارگر فارمولا وہی ہے جس کو صبر و تحمل کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2016 All issues

Printed page