علم کی دو قسمیں
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۶، صفحہ ۷
علم کی دو قسمیں
علم کی دو قسمیں ہیں__ایک وہ علم جس کا تعلق انسانی فکر اور انسانی زندگی سے ہوتا ہے۔ ایسے علم کو اصطلاح میں علم انسانی (humanities) کہا جاتا ہے۔ دوسرا علم وہ ہے جس کا تعلق مادی شعبہ سے ہے۔ ایسے علوم کو سائنسی علوم کہا جاتا ہے۔ دونوں قسم کے علم کے مطالعے کے طریقے الگ الگ ہیں۔ ایک علم کے طریقے کو دوسرے علم کے معاملے میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً سائنسی علوم کی بنیاد ریاضیات (mathematics) پر ہے۔ ایسے علوم میں قطعی استدلال یا ناقابل انکار استدلال ممکن ہوتا ہے۔ ان کو دو اور دو چار کی طرح ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے سائنسی علوم میں اختلاف نہیں پایا جاتا۔
سائنسی علوم میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ کسی موضوع پر مختلف اہل علم کا اتفاق رائے حاصل کر لیا جائے_مگر علم انسانی (humanities) میں اس قسم کا ریاضیاتی استدلال ممکن نہیں۔ اس لیے علم انسانی کے معاملے میں لازمی اتفاق رائے بھی ممکن نہیں۔
دونوں قسم کے علوم میں اس فرق سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ جو شخص علم انسانی یا مذہب کے معاملے میں یقین کا درجہ حاصل کرنا چاہے، اُس کو یہ توقع نہیں رکھنا چاہئے کہ یہاں سائنسی علوم کی مانند ریاضیاتی استدلال ممکن ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی علوم کا معاملہ ففٹی ففٹی کے اصول پر مبنی ہے ۔ پچاس فی صد استدلال (reasoning) اور پچاس فی صد وجدان (intuition)۔
پہلے جز ء کا تعلق معلومات (information) سے ہے، اور دوسرا جز ء معرفت یا حقیقت شناسی (realization of the truth) سے تعلق رکھتا ہے۔ جو آدمی صرف معلومات کو جانتا ہو، مگر اس کے اندر حقیقت شناسی کی صلاحیت موجود نہ ہو، وہ ہمیشہ ذہنی انتشار (confusion) میں مبتلا رہے گا، وہ کبھی سچائی تک پہنچ نہ سکے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2016 All issues