مثبت سوچ، منفی سوچ
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۶، صفحہ ۱۷
آگے جھک جاؤ تو وہ جھک گئے۔ اس کے برعکس، ابلیس اس پر راضی نہ ہوا۔ اس نے یہ اعتراض کیا کہ انسان کو خلیفۃ الارض کیوں بنایا گیا۔ یہ اعتراض سلیکٹیو تھنکنگ (selective thinking) کی ایک مثال تھی۔ ابلیس جنوں کا سردار تھا۔ جن کو خدا نے اس سے زیادہ چیز دی تھی، یعنی خلافت کا ئنات۔ لیکن ابلیس نے اس پہلو کو نظر انداز کیا اور صرف یہ سوچا کہ انسان کو زمین کی خلافت کیوں دی گئی۔ یہی برائی پوری تاریخ میں رائج ہے۔ انسانوں کی ننانوے فیصد سے زیادہ تعداد منفی سوچ میں پڑی ہوئی ہے، یعنی انتخابی سوچ (selective thinking)۔ ملے ہوئے کو نظر انداز کرنا، اور نہ ملے ہوئے کو مسئلہ بنا کر اس کو اپنی سوچ کا محور بنانا۔
اس معاملے میں مسلمانوں کا استثنا نہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ساری دنیا میں ہر قسم کے بہترین مواقع پائے ہوئے ہیں، جس طرح دوسرے لوگ ان کو پائے ہوئے ہیں۔ لیکن فطرت کے قانون کے تحت ایسا ہے کہ کوئی چیز ایسی بھی ہے جو مسلمانوں کو نہیں ملی۔ مسلمان یہ کر رہے ہیں کہ اسی نہ ملے ہوئے کو اپنی سوچ کا مرکز محور بنائے ہوئے ہیں اور ملے ہوئے کو نظر انداز کر رکھا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں منفی سوچ کی دلدل میں پڑے ہوئے ہیں، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ شکر سے محروم ہیں جو کسی انسان کی سب سے بڑی عبادت ہے۔
مسلمانوں کی اس منفی سوچ کا سبب کیا ہے، وہ ہے 99 فی صد کو نظر انداز کرنا، اور ایک فی صد کو لے کر اپنی رائے بنانا۔ یہ نہایت برا طریقہ ہے۔ یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔ جو لوگ اس میں مبتلا ہوں، ان کو اس کی سب سے بڑی قیمت یہ دینی پڑے گی کہ ان کے اندر مثبت شخصیت نہ بنے ۔ مثبت شخصیت سے محرومی کا مطلب ہے اللہ کی رحمت سے محرومی۔
ناگپور اور کامٹی میں الرسالہ مشن کے افراد کی ماہانہ میٹنگ ہر مہینہ کے پہلے اتوار کو ہوتی ہے۔ رابطہ قائم فرمائیں:
Mukhtar Ansari- 09371745384, Khalilur Rehaman- 9370050442 Irfan Rasheedi-9604367878
‹ Previous page Next page › Contents of March 2016 All issues