Al-Risala · March 2016 · page 20

شخصیت کا ارتقا

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۶، صفحہ ۲۰

شخصیت کی تعمیر

قرآن کی سورہ نمبر 83 میں اہل تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: کلا بل ران علی قُلُوبِہِمْ ما كانوا يكسبون یَکْسِبُونَ(التطفیف 14) یعنی ان کے دلوں پر اُن کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ اس آیت میں ایک نفسیاتی معاملہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو ان لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے جو ضد اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اس معاملہ کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :

ان المؤمن اذا أذنب كانت نكتة سوداء فى قلبه فان تاب ونزع واستغفر صقل قلبه وإن زاد زادت حتى يعلو قلبه (ابن ماجه، حدیث نمبر 7952- مسند احمد، حدیث نمبر 4244)۔ یعنی مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا دھبہ پڑ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرے اور اِس سے باز آجائےاور استغفار کرے تو اس کا دل دھبہ سے پاک ہو جاتا ہے۔ اور اگر گناہ میں مزید اضافہ ہو تو دھبہ بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔

تمثیل کی زبان میں ایک نفسیاتی معاملہ کو بتایا گیا ہے۔ جب کوئی انسان برائی کرے اور پھر وہ جلد ہی متنبہ ہوجائے۔ وہ برائی کرنے کی خواہش کو اپنے دل سے نکال دے تو اس کا دل پاک و صاف ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ آدمی ایک کے بعد ایک برائی کرتا رہے ۔ وہ اپنا محاسبہ کرکے اپنے دل سے اس کے اثر کو زائل نہ کرے تو دھیرے دھیرے اس کا پورا دل بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اب وہ برائیوں ہی میں جینے لگتا ہے اور سچائی کی بات اس کو متاثر نہیں کرتی۔ جدید نفسیاتی مطالعہ نے اس معاملہ کو مزید واضح کیا ہے۔ اب یہ بات ایک پراسرار عقیدہ نہیں رہی، بلکہ وہ ایک معلوم حقیقت بن گئی ہے۔ اب وہ خالص علمی اعتبار سے انسان کے لیے قابل فہم ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کے دماغ کے تین بڑے حصے ہیں۔ یہ تینوں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2016 All issues

Printed page